خطبات محمود (جلد 35) — Page 197
$1954 197 خطبات محمود لوگوں کو نیک نمونہ دکھاؤ۔اگر تم زیادہ محنت کرتے ہو تو جب لوگ تمہاری فصلوں کے پاس سے گزریں گے تو ہر دیکھنے والا تمہاری اچھی فصل کو دیکھ کر کہے گا کہ احمدی بڑے محنتی ہوتے ہیں۔جب دوبارہ گزرے گا تو تم کہو گے کہ کچھ دیر کے لیے ہمارے پاس بیٹھ جاؤ۔گرمی کا موسم ہے کچھ پانی وغیرہ پی لو۔اس سے وہ اور زیادہ متاثر ہوگا اور کہے گا کہ احمدی تو فرشتے ہوتے ہیں۔پھر کسی دن اگر اس کا تمہارے ساتھ معاملہ پڑے گا یا تمہارے پاس وہ کوئی امانت رکھ جائے گا یا تم سے سودا خریدے گا اور تم اُسے اچھا سودا دو گے یا امانت میں خیانت سے کام نہیں لو گے تو پھر تو وہ اتنا متاثر ہوگا کہ جس کی حد ہی کوئی نہیں۔جب ہم قادیان سے نکلے ہیں تو اُس وقت انجمن کا بہت سا روپیہ اُدھر رہ گیا تھا اور ادھر آمد اتنی کم ہو گئی کہ یا تو یہ حالت تھی کہ روزانہ چار چار، پانچ پانچ ہزار روپیہ آتا تھا اور لاہور میں ڈیڑھ دو روپیہ روزانہ تک آمد آ گئی۔اُس وقت پہلا قدم میں نے یہ اُٹھایا کہ میں نے کہا ہم سب قیمتاً لنگر سے کھانا کھائیں گے مگر کھائیں گے وہی ایک ایک روٹی جو سب لوگوں کی کے لیے تقسیم ہوتی ہے۔چنانچہ تین چار مہینے تک ہم ایسا ہی کرتے رہے۔سب کے لیے ایک کی ایک روٹی اور لنگر کا سالن آتا رہا۔نتیجہ یہ ہوا کہ جب لوگوں نے دیکھا کہ یہ اپنے پاس۔خرچ کر کے بھی ہمارے جیسا کھاتے ہیں تو اُن کے حوصلے بڑھ گئے اور اُن کی ہمتیں بلند ہو گئیں۔بیشک کچھ لوگ گر بھی گئے مگر اکثریت ایسی ہی تھی جو پھر ایک نئے عزم کے ساتھ کام کرنے کے قابل ہو گئی۔پھر امانتوں کے متعلق میں نے حکم دیا کہ چاہے سارا خزانہ ختم ہو جائے جو لوگ اپنی امانتیں مانگنے آئیں اُن کو امانتیں دیتے چلے جاؤ۔اُس وقت انجمن کا آٹھ دس لاکھ روپیہ اُدھر رہ گیا تھا۔میرے دل میں اللہ تعالیٰ نے ڈالا کہ اس روپیہ کو جلدی کی نکلواؤ ورنہ یہ ضبط ہو جائے گا۔چنانچہ میں نے انجمن والوں سے کہا کہ وہ جلدی روپیہ نکلوائیں۔اللہ تعالیٰ کا فضل یہ ہوا کہ ہماری بڑی رقم ایک انگریزی بینک میں تھی۔اُس نے فورا وہ روپیہ ادھر بینک میں منتقل کر دیا مگر پھر بھی کئی لاکھ اُدھر ضائع ہو گیا۔اُس وقت افسروں کے پاس لوگ اپنی امانتیں مانگنے آتے تو وہ کہتے کہ کچھ ٹھہر و۔ہم انتظام کر دیں گے۔مجھے معلوم ہوا میں نے کہا کہ کسی کی امانت نہ روکو۔اگر کوئی لاکھ مانگے تو اُسے لاکھ دے تو دو،