خطبات محمود (جلد 35) — Page 196
$1954 196 خطبات محمود کہ اس میں زمینداروں والا طریق رکھا جائے یعنی باورچی انجمن دے دے اور لڑکے دال، آٹا اور سبزی وغیرہ گھر سے لے آیا کریں۔گویا وہی خرچ جو ایک لڑکے کا اپنے گھر پر ہوتا ہے ہوٹل میں ہو اور ماں باپ کو کوئی زائد بوجھ برداشت نہ کرنا پڑے۔اس طرح ہر غریب غریب بھی اپنے بچوں کو تعلیم دلا سکے گا اور اس کی اچھی تربیت ہو سکے گی۔ނ دوسرا حصہ تبلیغ کا ہے۔مجھے افسوس ہے کہ یہاں کی جماعتوں کو اس طرف بہت ہی کم توجہ ہے۔شاید اس میں بڑی مشکل یہ ہے کہ یہاں ننانوے فیصدی پنجابی ہیں۔اور ایک پنجابی کے لیے سندھیوں میں تبلیغ کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ اس کی زبان اور ہے اور اُس کی زبان اور ی ہے۔لیکن جب انسان کسی چیز کا ارادہ کر لے تو پھر وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔میں نے دیکھا ہے پنجاب سے مایوس ہو کر اب مولویوں نے اس صوبہ کی طرف توجہ کی ہے۔اگر یہاں شور ہوا تو پھر پنجاب والوں کو دلیری ہو جائے گی۔پچھلی شورش میں سندھ محفوظ رہا تھا لیکن اب برابر خبریں آ رہی ہیں کہ سندھ میں فتنہ کو ہوا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پس ہمیں پہلے۔ہوشیار ہو جانا چاہیے۔گورنمنٹ نے اپنی مصلحتوں کے ماتحت جن کو میں ٹھیک سمجھتا ہوں۔سرکاری افسروں اور سرکاری ملازمین کو تبلیغ سے روک دیا ہے لیکن اس کا عوام الناس سے کوئی تعلق نہیں۔پس تمہیں کوئی قانون اپنے بھائی بندوں کو تبلیغ کرنے سے نہیں روک سکتا بشرطیکہ تم سے کام لو اور فتنہ کو ہوا نہ دو۔تمہیں صرف فساد سے روکا جاتا ہے۔اور فساد اور تبلیغ کبھی ے نہیں ہو سکتے۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک شخص دوسرے کو نیکی کی تلقین کرے اور پھر وہ خود ہی فساد کرنے لگ جائے۔ہاں! اگر دوسرا شخص فساد کرتا ہے تو یہ اُس کی اپنی غلطی ہے۔تبلیغ کرنے والے کا اس میں کوئی قصور نہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ یہاں ہماری جماعت کے کثرت سے لوگ موجود ہیں مگر پھر بھی وہ تبلیغ نہیں کرتے۔نصرت آباد اور جھڈو سے چلو اور ناصر آباد تک آؤ تو ایک ہزار کے قریب احمدی مرد مل جائے گا اور عورتیں اور بچے ملا کر چار پانچ ہزار تک ان کی تعداد ہو گی۔یہ اتنی ہی تعداد ہے جتنی ابتدا میں قادیان کی ہوا کرتی تھی۔مگر اُس وقت قادیان کی تبلیغ سے اردگرد کے کئی گاؤں احمدی ہو گئے تھے۔صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ تم اپنے اندر نیکی پیدا کرو اور