خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 174

$1954 174 خطبات محمود طاقت کے نتیجہ میں، ایسے سامان پیدا کیے کہ مکہ فتح ہو گیا۔جب مکہ فتح ہوا تو مکہ والوں نے سمجھا کہ اب ہماری گمشدہ متاع ہمیں واپس مل جائیں گی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے وطن میں واپس آجائیں گے مگر خدا نے یہی فیصلہ کیا کہ مکہ والے اونٹ ہانک کر اپنے گھروں میں لے جائیں اور مدینہ والے خدا کے رسول کو اپنے گھر لے جائیں۔لیکن اے انصار! اگر تم چاہو تو تم یوں بھی کہہ سکتے ہو کہ ہم محمد رسول اللہ کے لیے مدینہ میں بھی لڑے اور مدینہ سے باہر بھی لڑے۔ہم نے اپنے بچوں کو یتیم اور اپنی بیویوں کو بیوہ بنایا۔ہم نے اپنے خاندانوں کو برباد کیا اور اپنا مال اور اپنی طاقت آپ کے لیے قربان کر دی مگر جب فتح حاصل ہوئی تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اموال اپنے رشتہ داروں کو دے دیئے اور ہمیں کچھ نہ دیا۔انصار نے روتے ہوئے کہا کہ يَا رَسُولَ اللہ ! ہم مانتے ہیں کہ یہ ہماری غلطی ہے۔ہم میں سے کسی بیوقوف نوجوان نے یہ بات کہہ دی ہے ورنہ ہم اس سے بیزار ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک تم میں سے کسی نے یہ بات کہی ہے مگر اے انصار! اب اس قول کی وجہ سے اس دنیا میں تم کو برکتیں نہیں ملیں گی۔تم اگلے جہان میں حوض کوثر پر ہی آکر ان برکتوں کو لینا۔2 چنانچہ دیکھ لو چودہ سو سال گزر گئے مگر ان چودہ سو سال میں کوئی انصاری بادشاہ نہیں ہوا۔عربوں کو بادشاہت ملی، مکہ والوں کو بادشاہت ملی اور وہ چار پانچ سو سال تک حکومت کرتے رہے، پٹھانوں کو بادشاہت ملی، ایرانیوں کو بادشاہت ملی، مصریوں کو بادشاہت ملی ، مغل آئے انہوں نے بغداد فتح کیا اور اٹھارہ لاکھ مسلمانوں کو قتل کیا مگر پھر اُن کو بھی تو بہ نصیب ہوئی اور انہوں نے لمبے عرصہ تک حکومت کی۔غرض ہر قوم کو اس چودہ سو سال کے عرصہ میں حکومت ملی۔اگر نہیں ملی، تو اُن کو جوتی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بھی لڑے اور بائیں بھی لڑے اور آگے بھی لڑے اور پیچھے بھی لڑے اور جنہوں نے کہا تھا کہ یا رَسُولَ اللهِ ! دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔اس لیے کہ اُن کے باپ دادا میں سے کسی نے یہ بات کہی اور خدا نے اُن کی ساری اولاد کو ہمیشہ کے لیے حکومت سے محروم کر دیا۔پس مت سمجھو کہ تمہاری ان غفلتوں کے نتیجہ میں تم آئندہ آنے والے انعامات سے محروم نہیں ہو گے۔اگر تم غفلت سے کام لو گے اور اپنی ذمہ داریوں کو نہیں سمجھو گے تو تم اور تمہاری اولادیں