خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 173

خطبات محمود 173 $1954 پس یہ لوگ تو اپنی جگہ کامیاب نہیں ہوں گے مگر جو احمدی کہلاتے ہوئے مداہنت کرتے ہیں افسوس تو اُن پر ہے کہ بجائے اس کے کہ وہ غیرت کا مظاہرہ کرتے انہوں نے اپنے تعلقات کو سلسلہ کے مفاد پر مقدم سمجھا اور ان لوگوں کے ظاہر کرنے میں اخفا سے کام لیا۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ انہیں پارٹیشن کے بعد اس علاقہ میں جو آرام ملا ہے اس سے وہ مغرور نہ ہو جائیں بلکہ ان پر جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ذمہ داریاں ہیں اُن کو پورا کریں ورنہ خدا کے فرشتے ان کی گردن پکڑ لیں گے۔آپ لوگوں کو کیا معلوم کہ آپ کی اولادوں میں سے کس نے دنیوی لحاظ سے ترقی کرنی ہے، کس نے بڑا عالم بننا ہے، کس نے بڑا صوفی اور بزرگ بننا ہے۔یہ انعامات ہیں جو بہر حال آپ لوگوں کے لیے مقدر ہیں۔پس اپنی نسلوں کے لیے ایسا بیج مت بوئیں جس کے نتیجہ میں وہ خدائی انعامات سے حصہ لینے سے محروم رہ جائیں۔تم مت سمجھو کہ تمہارے کاموں کا تمہاری اولادوں پر اثر نہیں پڑے گا۔بسا اوقات ماں باپ سے نادانستہ طور پر ایک فعل سرزد ہوتا ہے اور صدیوں تک اُن کی نسلوں کو اُس کی سزا برداشت کرنی پڑتی ہے۔دیکھو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے بعد جب غزوہ حنین میں شامل ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح دے دی تو اموالِ غنیمت آپ نے مکہ والوں میں تقسیم فرما دیئے۔مدینہ والوں کو کچھ نہیں دیا۔اس پر کسی انصاری نوجوان کی زبان سے بے احتیاطی میں یہ الفاظ نکل گئے کہ خون ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اموال اپنے رشتہ داروں کو دے دیئے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا پتا لگا تو آپ نے انصار کو بلایا اور فرمایا اے مدینہ کے لوگو! مجھے تمہارے متعلق ایسی روایت پہنچی ہے۔انہوں نے کہايَا رَسُوْلَ الله ! ہم میں سے کسی بیوقوف نوجوان نے یہ بات کہی ہے ہم نے نہیں کہی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو بات کہی گئی، سو کہی گئی۔پھر آپ نے فرمایا دیکھو! تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے مکہ میں پیدا کیا مگر مکہ والوں نے اپنی بیوقوفی سے خدائی کلام کو رڈ کر دیا اور آپ کو قبول نہ کیا۔تب اللہ تعالیٰ نے مدینہ والوں کو دے دی۔پھر خدا نے اپنے فضل سے، نہ کہ مسلمانوں کے کسی زور اور