خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 169

$1954 169 خطبات محمود رہو گے اور اپنے اندر افتراق اور انشقاق پیدا نہیں کرو گے اللہ تعالیٰ تم میں خلافت کو جاری رکھے گا اور دوسری طرف وہ ایسے لوگوں کو کھڑا کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ کسی سے وعدہ کرو کہ تیرا بیٹا امیر کبیر ہو جائے گا، کسی سے کہو تو منیجر بن جائے گا، کسی سے کہو کہ تو جنرل مینجر بن جائے گا۔میں نے کہا جس دن وہ کسی سے کہتا ہے کہ تو مینجر ہو جائے گا اُسی دن سے وہ پہلے میجر کا دشمن ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اب یہ نکلے تو میں اس کی جگہ سنبھا لوں۔جس دن وہ کہتا ہے کہ فلاں شخص جنرل مینجر ہو جائے گا اُسی دن وہ جنرل مینجر کا دشمن ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اب وہ نکلے تو میں اس کی جگہ سنبھالوں۔جس دن وہ کسی سے کہتا ہے کہ وہ ہیڈ کلرک ہو جائے گا اُسی دن وہ پہلے ہیڈ کلرک کا دشمن ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اب یہ میرے یا کسی عتاب میں آکر نکل جائے تا کہ میں اس کی جگہ سنبھالوں۔غرض ایک طرف تو وہ کہتا ہے کہ ساری جماعت کو ایک ھ پر جمع کرو اور دوسری طرف کہتا ہے کہ جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دو۔کیا کوئی عقل تسلیم کی کر سکتی ہے کہ ایسا شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو سکتا ہے؟ یا خدا تعالیٰ خود اپنے نظام کو تباہ کرنے کے لیے ایسے لوگوں کو کھڑا کر سکتا ہے۔؟ کہنے لگے آپ جانتے نہیں کہ وہ بڑے نیک آدمی ہیں۔میں نے کہا تمہیں وہ نیک نظر آتے ہیں اور تم سمجھتے ہو کہ خدا ان سے کام لے رہا ہے لیکن میرے نزدیک تو خدا اُس سے ایسا ہی کام لے رہا ہے جیسا کہ اُس نے ابو جہل وغیرہ سے لیا۔آخر میں میں نے اُن سے صاف کہہ دیا کہ تم یا تو ہمارے ساتھ رہ سکتے ہو یا اس کے ساتھ رہ سکتے ہو۔یہ نہیں ہو سکتا کہ تم ہمارے ساتھ بھی رہو اور اس کے ساتھ بھی رہو۔انہوں نے مینجر صاحب کے متعلق بتایا کہ یہ بھی درحقیقت ہمارے ساتھ ہی ہیں۔وہ کہنے لگے نہیں۔پہلے میں ان کے ساتھ ہوا کرتا تھا مگر اب نہیں ہوں۔اس کے بعد وہ چلے گئے اور مینجر صاحبہ نے مجھے اطلاع دی کہ جاتے ہی وہ پھر اُس شخص کے پاس گئے اور بہت روئے اور نیچے چلائے کہ اب ہمیں جُدا کیا جا رہا ہے۔اور پھر انہوں نے اُسے چائے پلائی اور اُس کا جوٹھا تبرک کے طور پر پیا کہ خبر نہیں یہ مصیبت ہم پر کب تک وارد رہے گی۔اس کے بعد اُس مخبر نے رپورٹ بھیجی اور ساتھ ہی اُس شخص کا ایک خط بھجوایا اور لکھا کہ یہ فلاں افسر کے نام اُس نے لکھا تھا جو میں آپ کو بھجوا رہا ہوں۔اس میں سندھ کے ایک احمدی کے متعلق ہی