خطبات محمود (جلد 35) — Page 168
$1954 خطبات محمود 168 تو دوڑ کر ایک مکان کے پیچھے چھپ جانا چاہا۔میں نے اُسے فوراً پہچان لیا اور میں نے پوچھاتی کہ کیا یہ فلاں شخص ہے؟ انہوں نے کہا نہیں۔یہ فلاں ہے (اُس نے اپنا نام بدل لیا تھا)۔میں نے کہا یہ کوئی نام رکھ لے جیسے کسی شاعر نے کہا ہے کہ وہ کسی جامہ اور کسی شکل میں بھی ہرے سامنے آ جائے ، میں اسے پہچان لیتا ہوں۔اسی طرح میں جانتا ہوں کہ یہ وہی خص ہے جسے میں نے قادیان سے نکالا تھا۔پھر یہ یہاں کس طرح آ گیا ؟ اس پر لوگوں نے بتایا کہ اس نے اس اس طرح ہمیں اپنی خواہیں سنائی تھیں۔میں نے کہا بس! تم ان وعدوں پر پھول گئے اور تمہارا دماغ خراب ہو گیا ؟ اگر تمہارے اندر ایمان ہوتا تو تم سمجھتے کہ کیا یہ ہوسکتا کہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ اپنی جماعت قائم کرے اور اُس کا ایک خلیفہ بنائے اور اُس کے احکام کی تعمیل کو ضروری قرار دے اور دوسری طرف اس قسم کے آدمی پیدا کر دے اور انہیں کہے کہ تم لوگوں سے کہتے پھرو کہ فلاں پر عذاب آ جائے گا اور فلاں کو انعام مل جائے گا۔میں نے کہا خبردار! جو آئندہ یہ شخص میری اسٹیوں میں آیا۔اس پر لوگوں نے بتایا کہ آپ کے تو بعض کارکن بھی اس کے ساتھ شامل ہیں اور بڑے اخلاص سے وہ اس کی مجلسوں میں بیٹھتے ہیں اور انہوں نے پانچ آدمیوں کے مجھے نام بتلائے۔میں ناصر آباد واپس آیا تو میں نے اُن پانچوں کو بلوایا۔اُن میں وہ مخبر بھی تھا جس نے مجھے اطلاع دی تھی۔میں نے اُن سے پوچھا کہ آپ لوگوں نے یہ کیسی پارٹی بنائی ہوئی ہے؟ انہوں نے کہا ہماری پارٹی کوئی نہیں۔یہ ایک بزرگ ہیں جن سے ہم اپنے لیے دعائیں کراتے ہیں اور ہم ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے ان کی مجلس میں بیٹھا کرتے ہیں۔میں نے کہا اگر تم غیر مبائع ہوتے تب تو اور بات تھی لیکن تم یہ تو ی سوچو کہ ایک طرف تو اس بات کے قائل ہو کہ خدا تعالیٰ نے دنیا میں خلافت کو قائم کیا ہوا ہے اور دوسری طرف تم یہ سمجھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے خلافت کے مقابلہ میں ایک اور شخص کو لا کر کھڑا کر دیا ہے۔کہنے لگے تو بہ تو بہ! وہ خلافت کے مقابل میں کہاں کھڑے ہیں۔وہ تو کہتے ہیں کہ خلیفہ وقت کی فرمانبرداری کرنی چاہیے۔میں نے کہا منہ سے کہنا اور بات ہے۔کمو سوچنا یہ چاہیے کہ آخر ان باتوں کا نتیجہ کیا نکلے گا۔اور وجہ کیا ہے کہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ ایک نیا نظام جاری کرتا ہے اور لوگوں سے کہتا ہے کہ جب تک تم ایک شخص کے ہاتھ پر اکٹھے۔