خطبات محمود (جلد 35) — Page 139
$1954 139 خطبات محمود جاتی تھی۔ایک دفعہ پولیس اور فوج کے کچھ آدمیوں میں جھگڑا ہو گیا اور انہوں نے ایک دوسرے کو مارا پیٹا۔وہ انہیں ہٹاتا تھا مگر لوگ رُکتے نہیں تھے۔بعد میں جب تحقیقات ہوئی تو فوجی سپاہیوں نے مار پیٹ سے انکار کیا۔پولیس والوں نے کہا کہ ایک اور شخص بھی ان میں تھا جو ان کو لڑائی سے باز رکھتا تھا۔وہ اس وقت پیش نہیں ہے۔آخر معلوم ہوا کہ لڑائی کے بعد اس پر کوئی الزام لگا کر فوجی حوالات میں اُسے دے دیا گیا۔جب اُسے وہاں سے نکالا گیا تو اُس نے سچی بات بتا دی۔جب سپرنٹنڈنٹ پولیس کو یہ واقعہ معلوم ہوا تو اُس نے فوجی افسر کو لکھائی کہ آپ کو اس کی ضرورت نہیں اسے ڈسچارج کر کے میرے پاس بھجوا دیں۔چنانچہ وہ فوج سے ڈسچارج کر دیا گیا اور پولیس میں اُسے ملازمت مل گئی۔تو اعلیٰ کیریکٹر بہر حال دوسروں پر اثر کرتا ہے۔پس ہمیں اپنے کیریکٹر کو بلند رکھنے اور اپنے اخلاق کو اعلیٰ بنانے کی کوشش کرنی چاہیے اور ایسا نمونہ ان کے سامنے پیش کرنا چاہیے که خود بخود ان کے دل ہماری طرف مائل ہوتے چلے جائیں۔ابھی کل ہی ایک دوست نے سنایا کہ ایک پاکستانی رئیس مصر سے آیا ہے۔اُس نے سنایا کہ ہمیں مصر میں کچھ مصری ملے اور محبت سے سلام کیا۔پھر کہا کہ آپ لوگوں نے امریکہ سے جو فوجی مدد لی ہے اس کو ہم اچھی نظر سے نہیں دیکھتے کیونکہ امریکہ ہمارا دشمن ہے۔لیکن ایک چیز ہے جس کی وجہ سے آپ کی عزت کرنے پر مجبور ہیں اور وہ یہ ہے کہ آپ نے ساری دنیا میں مبلغ بھیجے ہوئے ہیں۔گویا ہمارے مبلغ بھیجنے کا اُن کی طبیعتوں پر اتنا اثر ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کارنامہ کی وجہ سے پاکستان کی عزت کرنے پر مجبور ہیں۔اُن کو یہ پتا نہیں کہ پاکستان میں ہمارے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں۔کیونکہ ہم عیسائیوں وغیرہ کو تبلیغ کرتے ہیں۔گویا یہاں ہمارے مشنوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کا موجب قرار دیا جاتا ہے اور باہر پاکستان کی اس لیے عزت کی جاتی ہے کہ یہاں سے تمام دنیا میں مبلغ بھیجے جاتے ہیں۔تو اپنے نیک نمونہ کے ساتھ لوگوں کو تبلیغ کرو اور ان کے دلوں میں احمدیت کی محبت بٹھاؤ۔ملازم لوگ بیشک اپنے منہ سے ایک لفظ بھی احمدیت کی تائید میں نہ نکالیں