خطبات محمود (جلد 34) — Page 65
$1953 65 59 11 خطبات محمود تمہارا سب سے بڑا عزیز اور دوست خدا تعالیٰ ہے۔اس لیے تم اسی کے سامنے جھکو اور اسی سے مدد طلب کرو (فرموده 20 / مارچ 1953ء بمقام ربوہ ) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔انسان خوشی میں بھی اور رنج میں بھی، راحت میں بھی اور مصیبت میں بھی ہمیشہ ہی اپ عزیزوں اور دوستوں کی طرف دوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔دیکھو! جب شادیاں ہوتی ہیں تو سارے رشتہ دار ا کٹھے ہو جاتے ہیں۔موتیں ہوتی ہیں تب بھی سارے رشتہ دار ا کٹھے ہو جاتے ہیں۔لیکن عام حالات میں لوگ اپنے اپنے گھروں میں کام کر رہے ہوتے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فطرت انسان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنی خوشی میں بھی اپنے عزیزوں کو شامل کرے اور اپنے رنج میں بھی اپنے ای عزیزوں کو شامل کرے۔اور جو شخص بھی فطرت کے اس مسئلہ کے خلاف چلتا ہے اُس کے متعلق مانا پڑے گا کہ جس قدر حصہ میں وہ فطرت کے اصول سے خلاف کرتا ہے اسی قدر اس کی فطرت مرچکی ہے۔بچے کھیلتے ہیں تو انہیں اگر کوئی ٹوٹی ہوئی ٹھیکری بھی مل جائے اور وہ انہیں پسند آ جائے تو وہ اُسے پکڑ کر گھر کی طرف دوڑتے ہیں اور ماں سے کہتے ہیں اماں! ہمیں یہ چیز ملی ہے۔یا اگر انہیں شیشہ کا کوئی ٹکڑامل جائے اور وہ پسند آجائے تو وہ اُسے گھر لے آتے ہیں اور ماں سے کہتے ہیں اماں ! ہمیں یہ شیشے کا ٹکڑا