خطبات محمود (جلد 34) — Page 60
خطبات محمود 60 60 $1953 کوئی لینا چاہتا ہے اسے انتخاب کے ڈنڈے سے حاصل کرے۔وہ اپنے ہم خیال لوگوں کو اسمبلی میں بھیجے اور ایسے قوانین پاس کرائے جن سے اُس کا مطلب حل ہو جائے ورنہ صرف یہ کہہ دینا کہ ہمارے ساتھ اکثریت ہے کچھ فائدہ نہیں دے سکتا کیونکہ دوسرا شخص کہہ سکتا ہے کہ ہمیں شبہ ہے کہ اکثریت تمہارے ساتھ شامل نہیں۔ہمارا ملک جمہوری ہے اور جمہوریت نے یہ اصول مقرر کیا ہے کہ اکثریت کی رائے کو ان کے نمائندوں کے ذریعہ ظاہر کیا جائے۔وہ کہتے ہیں ہم باز آئے اس کی بات کو ماننے سے کہ تمہارے ساتھ ملک کی اکثریت ہے تم اپنے نمائندے مقرر کرو۔وہ نمائندے کثرت رائے سے جو بات کہہ دیں گے ہم مان لیں گے۔غرض نمائندوں کی کثرتِ رائے وزراء کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ان کی خواہش کے مطابق کام کریں۔اور وزراء کی کثرتِ رائے وزیر اعظم کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اُن کی خواہش کے مطابق کام کرے۔جب جمہوریت کا یہ طریق ہے کہ صرف ایک وزیر کچھ نہیں کر سکتا تو اب کسی جماعت کا یہ کہنا کہ فلاں وزیر ایسا کر دے اس کا یہ مطلب ہے کہ تو وزراء کی کثرت رائے کی پروانہ کر۔اور اگر وزارت کو یہ کہا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ تم پبلک کے نمائندوں کی کثرتِ رائے کی پرواہ نہ کرو اور اسی کا نام ڈکٹیٹر شپ ہے۔خواجہ ناظم الدین صاحب کو کہا جاتا ہے کہ جمہوریت کو چھوڑ دیں ، سارے حقوق خود لے لیں اور وزراء کی رائے کو نظر اندازی کر دیں۔کیبنٹ میں دس گیارہ وزیر ہیں۔اب اگر خواجہ ناظم الدین صاحب سے یہ کہا جاتا ہے تو اس کا صاف طور پر یہ مطلب ہے کہ آپ وزارت کی پروا نہ کریں۔اور اگر وزارت سے کہا جاتا ہے ہے کہ تم ایسا کرو تو اس کا یہ مطلب ہے کہ اس پر زور دیا جا رہا ہے کہ تم اسمبلی کی پروا نہ کر واگر اسمبلی کے ممبران سے یہ کہا جاتا ہے کہ تم فلاں کام کرو اور وہ نہیں کرتے تو قاعدہ یہ ہے کہ تین چار سال کے بعد اسمبلی کے ممبر بدل جاتے ہیں اگر تم نے کوئی بات منوانی ہے تو آئندہ ایسے نمائندے بھیجو جوانی تمہاری رائے سے متفق ہوں۔پس یہ تحریک ، جمہوریت کے بالکل خلاف ہے۔خواجہ ناظم الدین کی صاحب ایک جمہوری ملک کے وزیر اعظم ہونیکی وجہ سے خود کچھ نہیں کر سکتے۔اگر وہ ایسا کریں گے تو ڈکٹیٹر شپ کا دعویٰ کریں گے۔پھر صرف وزارت بھی اُس وقت تک کچھ نہیں کر سکتی جب تک اسمبلی کے ممبروں کی اکثریت یہ نہ کہے کہ تم یوں کرو۔اسمبلی جو کام کرنا چاہتی ہے اس کے متعلق قانون بنا دیتی ہے اور قانون بنانے کے بعد جس چیز کو وہ چاہے ڈراپ کر دیتی ہے۔وہ