خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 59

$1953 59 59 خطبات محمود اطمینان ہے اگر ہم پنجاب سے باہر چلے گئے تو وہ کیا کہیں گے۔اگر ہم نے کراچی جا کر پکٹنگ کی اور وہاں جا کر بیٹھ گئے تو ہمارے اس اقدام سے پنجاب کے لوگ خوش نہیں ہو سکتے۔وہ کہیں گے کہ مولوی بھاگ گئے ہیں۔اس لیے ہمیں جو کچھ کرنا ہے یہیں کرنا چاہیے۔سر دست وہ پارٹی غالب آگئی ہے جس نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ ہمیں پنجاب میں کچھ نہیں کرنا چاہیے۔لیکن یہ غلبہ عارضی ہے ہمیں ایسی رپورٹیں مل رہی ہیں کہ لوگ کہہ رہے ہیں مولویوں نے ہم سے دھوکا کیا ہے۔جب یہ خیالات بڑھ جائیں گے اور مولویوں کو یہ نظر آنے لگے گا کہ ان کی گڈی چھن گئی ہے تو وہ کہیں گے پنجاب میں بھی لوٹ مار کرو تا عوام خوش ہو جائیں۔اس لیے ہماری جماعت کو فتنہ کے کراچی میں منتقل ہو جانے کی وجہ سے خوش نہیں ہونا چاہیے۔تم بیوقوفی کرو گے اگر یہ سمجھ لو گے کہ فتنہ ٹل گیا ہے۔ہم تو اندرونی خبر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اس لیے ہمیں زیادہ حالات معلوم ہیں۔ہم ہی چاروں طرف کی خبریں جمع کرتے ہیں اور پھر اُن سے نتیجہ نکالتے ہیں۔ہم معلوم کرتے ہیں کہ ان کی میں سے کونسی خبر سچی ہے کونسی جھوٹی ہے اور کون سی خبر میں مبالغہ ہے۔اس وقت تک جو خبریں ہمیں ملی ہیں اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ خطرہ دبا نہیں۔ہاں کچھ وقت کے لیے ٹل گیا ہے۔پس جماعتوں کو اپنے انتظامات قائم رکھنے چاہیں اور اس فتنہ کے ملنے کی وجہ سے خوش نہیں ہونا چاہیے۔حقیقت یہ ہے کہ فتنہ کا کراچی میں منتقل ہونا ملک کے لیے زیادہ مضر ہے۔اس کے معنے بہ ہیں کہ ملک میں ڈکٹیٹر شپ قائم کرنیکی کوشش کی جارہی ہے۔جمہوریت اور ڈکٹیٹر شپ میں یہ فرق ہے کہ جمہوریت میں جن اصولوں اور قواعد کے ماتحت پبلک کی آواز حکومت تک پہنچائی جاتی ہے انہیں نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور ایک فرد کے ذمہ ساری بات لگا دی جاتی ہے۔یہ مطالبہ بظاہر وزیر اعظم پاکستان خواجہ ناظم الدین صاحب سے ہے۔مگر لوگ اس کی حکمت کو نہیں سمجھے۔بظاہر یہ بات نظر نہیں آتی کہ ملک میں ڈکٹیٹر شپ قائم کی جارہی ہے لیکن در پردہ یہی بات ہے کہ ملک میں ڈکٹیٹر شپ قائم کی جارہی ہے۔آخر خواجہ ناظم الدین ایک وزیر ہیں۔اور وزیر ہونے کی وجہ سے انہیں قانونی طو پر کوئی زائد حق حاصل نہیں۔جمہوریت کا تقاضا ہے کہ وزیر اعظم ہونے کی وجہ سے وہ وہی کچھ کریں جو اُن کی کیبنٹ (Cabinet) کہے اور جمہوریت کا تقاضا ہے کہ کیبنٹ انہیں وہی مشورہ دے جس پر ملک کے نمائندوں کی اکثریت قائم ہے۔جمہوریت کہتی ہے کہ جو کچھ