خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 37

خطبات محمود 37 $1953 رسول کریم ﷺ نے ایک دفعہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو یہ یہ انعام دے گا۔پھر فرمایا کہ میری امت میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہوں گے جن کو خدا تعالیٰ بغیر حساب لئے جنت میں داخل کرے گا۔ایک صحابی کھڑے ہوئے اور درخواست کی کہ يَا رَسُولَ الله دعا فرمائیں کہ خدا تعالیٰ مجھے بھی اُن لوگوں میں شامل کرے۔آپ نے فرمایا ایسا ہی ہوگا۔اس کے بعد ایک اور صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ يَا رَسُول اللہ ! میرے لیے بھی دعا کریں۔آپ نے فرمایا اب نہیں ، جو یہ انعام لے گیا، لے گیا 4۔اس کی نقل کرنے سے کچھ نہیں ہو گا۔اس طرح تو ساری دنیا نقل کرے گی۔پس وقت پر کسی چیز کا خیال آجانا اور پھر عمل کر لینا بھی بھاری نیکی ہوتی ہے۔لیکن کم سے کم وہ انسان بد قسمتی سے تو بچ جاتا ہے جسے بے وقت خیال آجائے اور پھر وہ عمل کرے۔یہاں کے لوگوں میں سے خدا تعالیٰ جسے ہدایت دے دے تو باقی تین روزے رکھنے کی تو فیق مل جائے گی۔لیکن خطبہ چونکہ دیر سے چھپتا ہے اس لیے باہر کی جماعتوں کو دو روزے مزید باقی جماعت کے ساتھ رکھنے کا موقع مل جائے گا۔بہر حال جماعت آجکل سخت مشکلات میں سے گزر رہی ہے۔دشمن مختلف طریق سے جماعت کو مٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔جماعت نے خدا تعالیٰ کے فضل سے منا تو نہیں لیکن جو شخص اس کے بچانے کی کوشش کرتا ہے یقیناً وہ خدا تعالیٰ کے حضور میں بڑا مقرب ہے۔چونکہ ہم میں کوئی طاقت نہیں اس لیے ہمارے پاس یہی ذریعہ ہے کہ جس ہستی کو اس کی طاقت حاصل ہے ہم اُس کے سامنے عرض کریں کہ حضور ! جماعت کو دشمن کی زد سے محفوظ رکھیئے۔گویا ہمارا کام صرف منہ سے کہنا ہے اور رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی دوسرے شخص کی شفاعت حسنہ کرتا ہے خدا تعالیٰ اس کو بھی فائدہ سے محروم نہیں کرتا بلکہ اُسے بھی فائدہ پہنچاتا ہے 5۔تو جب ایک شخص کی شفاعت حسنہ کرنے سے انسان فائدہ سے محروم نہیں رہتا تو ایک جماعت کی شفاعت کرنے کے بعد وہ کیوں محروم رہے گا۔پس دوستوں کو خدا تعالیٰ سے دعائیں کرنی چاہئیں کہ وہ جماعت کی حفاظت کرے، اسلام کی ترقی کے سامان بخشے ، دشمن ناکام و نامراد ہوں ، ہم ان کی ناکامی اپنی آنکھوں سے دیکھیں تا ہمارے دل اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے لذت حاصل کریں۔یہ بہت بڑی چیز ہے اس کے لیے ہے دوست دعا کریں۔بار بار خدا تعالیٰ کے حضور جائیں، بار بار اُس کے سامنے پیش ہوں اور اُس