خطبات محمود (جلد 34) — Page 33
$1953 33 33 خطبات محمود پس ان کا کہنا کہ پہلے کی نسبت روزہ رکھنے والوں کی تعداد میں زیادتی واقع ہوگئی ہے اس کا مطلب ہے ہے کہ پہلے روزہ رکھنے والوں میں کمی تھی اور اب بھی سو فیصدی لوگوں نے روزہ نہیں رکھا۔بہر حال جیسا کہ میں نے بتایا ہے جس شخص نے اس تحریک کے سلسلہ میں کوتاہی کی ہے اُس کی یہ کو تاہی اُس پر ہی لوٹتی ہے۔بعض دفعہ اگر ایک شخص بھی خدا تعالیٰ کے سامنے دعا کرتا ہے تو اُس ایک شخص کی دعا ہی قوم کو کہیں کا کہیں پہنچا دیتی ہے۔لیکن اجتماعی تحریک سے غرض یہ ہوتی ہے کہ سب لوگوں کو عبادت کرنے کا موقع ملے ورنہ اگر دس آدمی بھی عبادت کرتے ہیں اور دعائیں کرتے ہیں تو ی خدا تعالی انکی دعائیں تو سن لے گا لیکن دوسرے لوگ اس برکت اور رحمت سے محروم ہو جائیں گے جو اس کے بدلہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے انہیں ملنی تھی۔پرانی تفسیروں میں لکھا ہے کہ جب حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ میں طوفان آیا ہے تو یہ ایک کہانی، یہ اسرائیلیات میں سے ہے۔لیکن بعض دفعہ بنی اسرائیل کی روایات، تفاسیر اور احادیث میں بھی نقل ہو جاتی ہیں۔اور بعض اوقات یہ روایات بھی سبق کا کام دے جاتی ہیں۔اگر مثنوی رومی اور کلیلہ دمنہ سے ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم ان روایات سے فائدہ نہ اٹھائیں جو بنی اسرائیل سے آئیں اور پھر ہماری تفاسیر اور احادیث کی کتب میں بھی آگئیں۔بیشک یہ روایات مجروح قرار دے دی جائیں لیکن ان سے جو سبق ملتا ہے وہ تو ہمیں لینا چاہئیے )۔بہر حال ایک روایت کی میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ میں جب طوفان آیا ایک چڑیا کا بچہ ایک درخت پر اپنے کی گھونسلا میں پیاسا پڑا تھا۔اُس کی ماں گھونسلے سے اڑ گئی تھی۔پیاس کی وجہ سے وہ چڑیا کا بچہ بار بار اپنا منہ کھولتا تھا۔طوفان بڑھنا شروع ہوا اور انسانوں کی آبادی تباہ ہونے لگی۔اور دنیا میں تہلکہ مچ گیا۔تب فرشتوں نے کہا اے خدا ! کیا ہم طوفان کو تھما دیں؟ کافی لوگ تباہ ہو گئے ہیں۔خدا تعالیٰ نے کہا نہیں، تھوڑی دیر اور۔چنانچہ جب پانی اور اونچا ہو گیا تو فرشتوں نے پھر خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کی اور کہا کہ اب طوفان کو تھما دیں؟ خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم نازل ہوا نہیں تھوڑی دیر اور۔پانی اور اونچا ہو گیا۔تو ی فرشتے پھر خدا تعالیٰ سے ملتیجی ہوئے اور کہا کیا اب طوفان تھمادیں؟ خدا تعالیٰ نے کہا نہیں تھوڑی دیر اور۔فلاں درخت پر چڑیا کا ایک بچہ ہے، وہ پیاسا ہے ، پانی اس قدر اونچا کر دو کہ وہ گھونسلے میں سے چونچ باہر نکال کر پانی پی لے۔