خطبات محمود (جلد 34) — Page 32
$1953 32 32 خطبات محمود عبادات میں ترقی کرنے میں مدد دیتے ہیں۔پس میری اس ہدایت کے کہ سال کے شروع میں سات روزے رکھے جائیں یہ معنے نہیں کہ میں نے جماعت سے کسی قربانی کا مطالبہ کیا ہے۔درحقیقت میں نے اس تحریک کے ذریعہ ان کی جھولیوں میں خدا تعالیٰ کی برکتیں ڈالنے کی کوشش کی ہے۔اس تحریک میں بھی جو شخص سُستی کرتا ہے ، غفلت کرتا ہے اور اس پر عمل کرنیکی کوشش نہیں کرتا وہ اپنا نقصان خود کرتا ہے ہے۔اس کی مثال اس شخص کی سی بن جاتی ہے جو سرد علاقہ کا رہنے والا تھا اور شدید گرمی کے دنوں میں دھوپ میں بیٹھا ہوا تھا۔دھوپ کی وجہ سے اُس کا جسم جھلس رہا تھا ، اُسے پسینہ آرہا تھا۔رستہ سے کوئی شخص گزرا اور اس نے اسے اس طرح کڑ کڑاتی دھوپ میں بیٹھے دیکھا تو اس نے کہا۔میاں ! تم اس کے طرح کیوں تکلیف اٹھارہے ہو؟ پاس ہی وہ دیوار ہے۔اُس کا سایہ ہے جو ٹھنڈا ہے تم اس سایہ میں بیٹھی جاؤ۔اس پر اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور کہا میں اگر سایہ میں چلا جاؤں تو تم مجھے کیا دو گے؟ یہ تو ایک لطیفہ ہے اور بعض قو میں دوسری قوموں پر ہنسی اڑانے کے لیے اس قسم کے لطیفے بنالیا کرتی ہیں۔لیکن اگر ی کوئی شخص اس روزوں کی تحریک کو چھٹی سمجھتا ہے۔وہ اس سے گریز کرتا ہے۔وہ تو کہانی ہے اور کہانی ہے شاید جھوٹی ہولیکن یہ تو سچ سچ وہی حرکت کرتا ہے جو اس شخص نے کی کہ اگر میں سایہ میں چلا جاؤں تو مجھے کیا دو گے؟ آخر کوئی شخص اگر روزے رکھنے سے گریز کرتا ہے تو اس کے سوائے اس کے کیا معنے ہیں کہ ی میں یہ کام کیوں کروں۔اگر کروں تو تم مجھے کیا دو گے حالانکہ جوتحریک میں نے کی ہے یہ اُس کے اپنے ہی فائدہ کی چیز ہے۔لوگ تو ایک ایک فائدہ کے حصول کے لیے بڑی بڑی محنت کرتے ہیں۔پھر جسے چار چار پانچ پانچ فائدے مل جائیں اُسے اور کیا چاہیے۔اگر انسان ایک ایک فائدہ کے لئے قربانی کرتا ہے تو چار پانچ فائدوں کے لیے تو اسے اس سے بڑھ کر قربانی کرنی چاہیے۔پس جن لوگوں نے اس تحریک کے سلسلہ میں کوتاہی کی ہے اور روزے نہیں رکھے انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔انہوں نے نہ میرا کوئی نقصان کیا ہے اور نہ سلسلہ کا کوئی نقصان کیا ہے۔ربوہ والوں کے متعلق مجھے اطلاع آئی ہے کہ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ تمام کے تمام لوگ روزہ رکھیں۔لیکن یہ اطلاع نہیں آئی کہ یہاں لوگ سو فیصدی روزے رکھتے ہیں یا نہیں۔دوسرے، روزے کے بعد یہ اطلاع ضرور آئی ہے کہ روزے رکھنے والے پہلے سے زیادہ ہو گئے ہیں۔اور زیادتی اُس وقت ہو سکتی ہے جب سو فیصدی نہ ہو۔جب سو فیصدی لوگوں نے روزہ رکھ لیا تو زیادتی کے کیا معنے۔