خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 374

$1953 374 خطبات محمود یہاں سے نکل گئے۔لیکن اگر اس قسم کا انتظام ہوتا تو شاید وہ دس منٹ میں ہی باہر نکل جاتے۔پس ان باتوں کو مد نظر رکھ کر اس قسم کا کام کرنا چاہیے تا حقیقی خدمت کے مواقع ضائع نہ ہوں۔صحابہ کرام خدمت کے مواقع کو ضائع نہیں کرتے تھے۔ایک دفعہ بعض صحابہ کسی جنازہ میں شامل ہوئے۔جب جنازہ ہو گیا تو کچھ صحابہ واپس جانے لگے۔ایک صحابی نے کہا میں تو جنازہ کے ساتھ جاؤں گا کیونکہ میں نے رسول کریم ﷺ سے سنا ہے کہ جو شخص نماز جنازہ میں شامل ہو پھر وہ جنازہ کے ساتھ قبرستان میں جائے ، وہاں دفن ہونے تک انتظار کرے اور پھر دعا کر کے واپس آئے تو اُسے دو قیراط ثواب ملے گا۔قیراط تو رتی کو کہتے ہیں۔مگر اس صحابی نے کہا میں نے رسول کریم ﷺ سے سنا ہے کہ ایک قیراط ایک اُحد پہاڑ کے برابر ہے۔دوسرے صحابہ نے کہا تم نے یہ حدیث ہمیں پہلے کیوں نہیں بتائی۔معلوم نہیں ہم نے کتنے قیراط ثواب ضائع کر دیا ہے 2۔غرض صحابہ کی ہمیشہ یہ خواہش ہوتی تھی کہ نیکی کے مواقع ضائع نہ جائیں۔اور یہی رُوح کسی قوم کو ی نیکی اور تقویٰ میں بڑھانے والی ہوتی ہے۔“ خطبہ ثانیہ کے بعد فرمایا۔" نماز کے بعد میں بعض جنازے پڑھاؤں گا۔دفتر کی طرف سے مجھے اُن لوگوں کی ایک لسٹ دی گئی ہے جو ان ایام میں فوت ہو گئے ہیں۔ان میں سے بعض صحابی تھے اور بعض ایسے لوگ تھے جن کے جنازوں میں بہت کم لوگ شامل ہوئے۔1 رحیم بخش صاحب چک نمبر 1 - 28/15 تحصیل خانیوال ضلع ملتان۔21 نومبر کو فوت ہوئے۔جنازہ میں بہت کم لوگ شامل ہوئے۔2 رشیدہ بیگم صاحبہ بنت سردار فیض اللہ خان صاحب مور جھنگی ڈیرہ غازی خان۔17 اکتوبر کو فوت ہوئیں۔جنازہ صرف تین آدمیوں نے پڑھا۔3 چودھری محمد بخش صاحب آف بھینی با نگر متصل قادیان چک نمبر 107 تحصیل خانیوال ضلع ملتان میں وفات پاگئے ہیں۔جنازہ پڑھانے والا کوئی نہ تھا۔اہلیہ صاحبہ ڈاکٹر ثناء اللہ صاحب چھمیال تحصیل شکر گڑھ فوت ہو گئیں ہیں۔سوائے ان کے خاوند کے اور کوئی احمدی جنازہ میں شریک نہیں ہو سکا۔