خطبات محمود (جلد 34) — Page 365
$1953 365 خطبات محمود کا اندازہ غلط نکلا۔اور مین جس وقت کا را بھی ریلوے لائن پر ہی تھی ریل گاڑی آگئی۔اور وہ واقعہ پیش آیا جس کے متعلق میں نے شروع میں بیان کیا ہے۔کار کی ساری سواریاں بچ گئیں۔عامہ حالات میں تو یہ امکان نہیں ہوتا کہ ریل سے کوئی چیز ٹکرائے اور پھر انجن اس کو کافی فاصلہ تک دھکیلتا ہوا لے جائے اور پھر سواریاں بچ جائیں۔لیکن یہ ایک نشان معلوم ہوتا ہے کہ باوجود اس کے کہ کار کو انجن دواڑھائی فرلانگ تک دھکیلتا چلا گیا اور وہ ٹوٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی لیکن سب سواریاں بچ گئیں۔جب کار سے انجن ٹکرایا تو اکثر حصہ سواریوں کا اُچھل کر ایک طرف باہر جاتے پڑا۔اور ریل کار کے ایک حصہ کو دھکیلتی ہوئی چوتھا حصہ میل تک لے گئی۔باقی کارٹوٹ گئی اور لائن کی کے ایک طرف جا پڑی۔پھر جب ریل ٹھہر گئی تو کار کے باقی ماندہ حصہ سے بھی جسے ریل دھکیل کر دُور تک لے آئی تھی ایک مسافر زندہ نکلا۔اڑھائی فرلانگ تک ریل کے انجن کے دباؤ کے نیچے چلتے چلے جانا اور پھر بھی زندہ بچ جانا یہ ایک نشان ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ ان مسافروں میں سے کسی نے کوئی ایسی نیکی یا ایسا کام کیا تھا جو خدا تعالیٰ کو پسند آیا اور اُس کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے سب سواریوں کو بچالیا۔یہ تو اس کا معجزانہ حصہ ہے جو ہر مومن کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔جب خدا تعالیٰ بچانا چاہتا ہے۔تو ایسے خطرات سے بھی بچا لیتا ہے جن سے بظاہر زندہ بچ جانے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔اس سے ہر انسان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ موت بے شک ظاہری اسباب کے ساتھ بھی وابستہ ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اُسے بالکل آزاد بھی نہیں کیا۔جب وہ چاہتا ہے دخل دیتا ہے اور با وجود اس کے کہ سب سامان جمع ہو جاتے ہیں موت پھر بھی نہیں آتی۔لیکن جب وہ دخل نہیں دیتا اُس وقت صرف ظاہری سامان نتیجہ پیدا کرتے ہیں یعنی موت کے سامانوں کا نتیجہ موت ہوتا ہے۔اور حیات کے سامانوں کا نتیجہ حیات ہوتا ہے۔ہمارے ملک میں لطیفہ مشہور ہے کہ ایک غریب آدمی تھا اُسے نوکری نہیں ملتی تھی اور ی بریکاری کی وجہ سے گھر میں فاقوں پر فاقے آرہے تھے۔اُس کی بیوی اُسے کہتی رہتی تھی کہ نوکری کرلو لیکن وہ یہ جواب دیتا تھا کہ نوکری نہیں ملتی۔اتفا قائلڑائی شروع ہوگئی اور فوج میں بھرتی شروع ہوئی بیوی نے کہا تم فوج میں بھرتی ہو جاؤ۔اُس نے خفا ہو کر کہا کہ کیا تم مجھے مروانا چاہتی ہو؟