خطبات محمود (جلد 34) — Page 358
$1953 358 خطبات محمود وہ لازماً ضائع ہو جاتی ہے اور گھروں والے بچے ہوئے ٹکڑے کام کرنے والے لوگوں کو دے دیتے ہیں۔پھر کا رکن بھی شرماتا ہے کہ اگر ٹکڑے واپس لے گیا تو افسروں کو میری سستی اور غفلت کی کا پتا لگ جائے گا۔پس جلسہ سے قبل کارکنوں کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرا دی جائے کہ جلسہ کے موقع پر ان کا خدمت کرنا ان کے لیے ثواب کا موجب ہے۔اگر وہ اس قسم کی غلطیاں کریں گے تو یہ ثواب ان کے لیے عذاب بن جائے گا۔اور انہیں خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل نہیں ہوگی بلکہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی ملے گی۔آجکل جماعت سخت مالی مشکلات میں سے گزر رہی ہے۔اس کے ذمہ ساری دنیا کی تبلیغ ہے۔ابھی تک یورپ، امریکہ ، ایشیاء کے مشرقی جنوبی علاقوں اور افریقہ کے بعض حصوں میں اسلام کا نام نہیں گیا۔اور اگر گیا ہے تو ایسی بُری صورت میں کہ لوگوں کو اس سے نفرت ہے۔ان سب ممالک میں ہم نے اسلام کی تبلیغ کو وسیع کرنا ہے۔اور یہ معمولی بات نہیں بلکہ ہماری چھوٹی سی تی جماعت کے لیے تو یہ کام قریباً ناممکن ہے۔اگر سارے مسلمان بھی اس کام میں ہمارے ساتھ مل جائیں تب بھی یہ کام بہت زیادہ ہے۔لیکن باقی مسلمانوں کا لا کھواں حصہ بھی تو ہمارے ساتھ متفق نہیں۔ایسی صورت میں جبکہ خدا تعالیٰ نے یہ کام ہمارے ذمہ لگایا ہے اور ہم نے یہ بوجھ اٹھانا ہے ہے۔جب تک ہم ایک ایک پیسے، ایک ایک دھیلے اور ایک ایک پائی کا حساب نہ رکھیں اور اپنے ہی اموال کو بچا کر اپنے اس کام کے لیے خرچ نہ کریں جو خدا تعالیٰ نے ہمارے ذمہ لگایا ہے۔اُس کی وقت ہم اپنے فرض کو ادا نہیں کر سکتے۔پس ہر طالب علم کے ذہن میں یہ بات داخل کی جائے کہ تم جو پیسے بچاؤ گے خدا تعالیٰ کے دفتر میں وہ تمہاری طرف سے چندہ شمار ہوگا۔کیونکہ جو شخص محنت اور قربانی کر کے سلسلہ کا مال بچا تانی ہے وہ گویا سلسلہ کے لیے چندہ دیتا ہے۔مثلاً اگر کوئی طالب علم اچھی طرح کام کرتا ہے اور جو مہمان اس کے ذمہ لگائے گئے تھے اُن کی خدمت کرتا ہے اور اپنی احتیاط کی وجہ سے وہ دس روپے بچالیتا ہے تو خدا تعالیٰ کے دفتر میں یہ لکھا جائے گا کہ اس نے دس روپے چندہ دیا۔رسول کریم ہے فرماتے ہیں کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی راہ میں دیتا ہے اُس کو بھی ثواب ملتا ہے اور جس کے ہاتھ سے خدا تعالیٰ کی راہ میں کچھ دیا جاتا ہے۔اس کو بھی ثواب ملتا ہے 1۔خالی اس کو ثواب نہیں ملتا جو خرچ