خطبات محمود (جلد 34) — Page 315
$1953 315 خطبات محمود بددیانتوں کو دیکھو گے کہ وہ شور مچاتے ہیں کہ ساری دنیا بد دیانت ہے۔حالانکہ وہ خود بددیانت ہوتے ہیں۔مجھے یاد ہے قادیان میں ایک جلسہ کے موقع پر میں نے ایک تقریر کی اور اس میں میں نے اس بات کا ذکر کیا کہ جماعت کی اقتصادی حالت کی درستی کے لیے تجارت سے کام لینا نہایت ضروری ہے۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تجارت کے لیے روپیہ کہاں سے لائیں میں نے کہا میرا پہلے خیال تھا کہ ہماری جماعت کے پاس روپیہ نہیں۔لیکن اب بہت سے لوگ مجھ سے مشورہ پوچھتے ہیں کہ فارغ روپیہ کو کس کام پر لگا ئیں۔اس سے مجھے پتا لگتا ہے کہ جماعت کے پاس روپیہ ہے۔لیکن ایسے آدمی نہیں ملتے جو اس روپیہ سے خود بھی فائدہ اٹھائیں اور مالک کو بھی فائدہ پہنچائیں۔اگر ایسے دیانتدار لوگ مل جائیں جو خود بھی فائدہ اٹھائیں اور مالکوں کو بھی فائدہ پہنچائیں تو میں سمجھتا ہوں کہ میں روپیہ مہیا کر سکتا ہوں۔لیکن پہلے میری تسلی ہونی چاہیے کہ وہ دیانتدار ہیں۔روپیہ خود تو نہیں کھا جائیں گے؟ یا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے روپیہ ضائع تو نہیں ہوگا ؟ اگر میری تسلی ہو جائے تو جماعت کے پاس روپیہ موجود ہے۔دوسرے دن مجھے تین آدمیوں کی چٹھیاں ملیں کہ آپ کو مبارک ہو آپ کی بیان کردہ خوبیاں ہم میں موجود ہیں۔ہم دیانتدار بھی ہیں ، تجارت کا فن بھی ہمیں آتا ہے اور ہم روپیہ والوں کو فائدہ بھی پہنچائیں گے۔تمہیں یہ سن کر حیرت ہوگی کہ اُن مینوں کا نام اول درجہ کے بددیانتوں میں تھا اور میں انہیں اپنا بھی کوئی پیسہ دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جماعت میں ایماندار اور پھر تجربہ کا رلوگ بھی تھے۔لیکن میری اُس کی تقریر کے جواب میں صرف تینوں آدمیوں نے لکھا کہ ہم ایماندار ہیں ، تجربہ کار ہیں ، آپ روپیہ ہمیں دیں حالانکہ وہ تینوں کے تینوں وہ تھے جن کے متعلق ہمارا علم اور تجربہ یہ تھا کہ وہ سب کے سب اول درجہ کے بددیانت اور بے ایمان ہیں۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ تم کیوں وہ بات کہتے ہی ہو جو تم نے کی نہیں؟ جب قوموں میں اس قسم کے لوگ پیدا ہو جاتے ہیں جو ایسی باتیں کرتے ہیں جن میں حقیقت نہیں ہوتی تو اُن کا اعتبار اٹھ جاتا ہے۔در حقیقت زبان ہی ہے جس سے کسی انسان کے حالات معلوم ہو سکتے ہیں۔اگر کسی مجلس میں کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ میں ڈاکٹر ہوں