خطبات محمود (جلد 34) — Page 312
$1953 312 خطبات محمود عورتوں کو بھی اور مردوں کو بھی ، اس جگہ کو عبادت کی جگہ بنانا چاہیے۔یہ شہر دوسرے شہروں کی طرح نہ ہو بلکہ اسے ایک خاص امتیاز حاصل ہو۔جو وقت بچے اُسے تم عبادت ، بنی نوع انسان کی بہتری، اُس کی آسائش اور آرام کے ذرائع سوچنے اور ان کے مہیا کرنے میں لگاؤ۔کیونکہ دین دو ہی ہے چیزوں پر مشتمل ہے۔(1) خدا تعالیٰ کی معرفت علم اور اُس سے تعلق پیدا کرنا اور (2) بندوں کی محبت۔بندوں سے محبت اور ان کی خدمت کرنا خدا تعالیٰ کی صفات کا اظہار ہے۔اگر کوئی شخص بنی نوع انسان سے محبت کرتا ہے اور اُن کی خدمت کرتا ہے تو وہ ربوبیت کی صفت کو ظاہر کرتا ہے۔گویار بوبیت کو ظاہر کرنے کا نام ہی شَفْقَتْ عَلى خَلْقِ اللہ ہے۔پھر خدا تعالیٰ رحمان ہے۔اور معرفتِ تامہ کے لیے ضروری ہے کہ انسان رحمان بنے۔اب خدا تعالیٰ پر تو کوئی احسان نہیں ہے کر سکتا۔انسان رحمان اسی طرح بن سکتا ہے کہ وہ بنی نوع انسان پر احسان کرے اور اُن کی ی خدمت کرے۔گویا انسان ربوبیت کی صفت کا اُس وقت تک مظہر نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ بندوں کا رب نہ بنے۔وہ رحمانیت کا مظہر نہیں بن سکتا جب تک کہ بندوں کے لیے رحمان نہ بنے۔وہ ستاریت کا مظہر نہیں بن سکتا جب تک وہ بندوں کا ستار نہ بنے۔وہ غفاریت کا مظہر نہیں بن سکتا۔جب تک وہ بندوں کے لیے غفار نہ بنے۔پس معرفتِ تامہ کا لازمی نتیجہ ہے۔شَفْقَتْ عَلى خَلْقِ الله۔ہم انہیں دو چیزیں کہہ دیتے ہیں لیکن دراصل ہیں یہ ایک ہی چیز۔یہ دونوں چیزیں ہر وقت تمہارے سامنے ہونی چاہیں۔اور انہی کے مطابق تمہیں اپنی زندگی کو ڈھالنا چاہیے۔یہ کوئی نیکی نہیں کہ میں نے خطبہ پڑھا یا تقریر کی تو تمہارے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور تم کانپ گئے۔لیکن جب گھر گئے تو پہلی سی کیفیت طاری ہو گئی۔مسجد میں آگئے تو ربوہ بن گیا۔گھروں میں گئے تو چونڈہ اور لائل پور بن گئے۔یہ دین نہیں بلکہ دین کے ساتھ تمسخر ہے۔اگر تم اپنے ہمسایہ کے گھر جانا چاہو اور ایک قدم آگے رکھو اور دوسرا قدم پیچھے رکھو تو تم اپنے گھر میں ہی رہو گے۔ہمسائے کے گھر نہیں جاسکو گے۔اسی طرح اگر یہاں مسجد میں میرا خطبہ یا تقریر سُن کر تمہارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن گھر جا کر تم پر پہلی سی حالت طاری ہو جاتی ہے تو اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے تم ایک قدم آگے رکھو اور ایک قدم پیچھے رکھو۔جو شخص ایک قدم آگے رکھتا ہے اور ایک قدم پیچھے رکھتا ہے وہ آگے نہیں بڑھ سکتا بلکہ وہ وہیں رہتا ہے جہاں سے وہ چلا تھا۔