خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 309

$1953 309 خطبات محمود ہاتھ پر ہاتھ مار رہے ہوں اور قہقہے لگا رہے ہوں تو یہ امید کرنا غلط ہوگا کہ باہر سے آنے والا اس ماحول سے متاثر ہو کر اپنے اندر غم کی کیفیت پیدا کرے گا۔بلکہ اس قسم کے ماحول کو دیکھ کر نیا آنے والا شخص حیران ہو جائے گا۔یا اُسے دیکھ کر اس طرف متوجہ ہوئے بغیر گزر جائے گا۔اسی طرح کسی کے ہاں بچہ پیدا ہو اور اردگرد بیٹھے ہوئے لوگ رونے لگ جائیں تو آنے والا یہ خیال کرے گا کہ : تو بچہ مُردہ پیدا ہوا ہے یا پیدا تو زندہ ہوا تھا لیکن بعد میں مرگیا ہے اور یا ماں مرگئی ہے۔وہ وہاں آکر نہیں کہے گا کہ مبارک ہو۔کیونکہ انسان ماحول سے متاثر ہوتا ہے۔حضرت خلیفہ امسیح الاول سنایا کرتے تھے کہ کوئی خاکروبہ تھی جو کسی بادشاہ کے محل میں کام کیا کرتی تھی۔ایک دن وہ محل سے نکلی اور دربار میں آکر صفائی کرنے لگی۔وہ صفائی کر رہی تھی کہ اچانک اُسے کوئی خیال آیا اور وہ دیوار پر سر رکھ کر رونے لگ گئی۔اتنے میں اسباب رکھنے والے یا نو کر آئے اور انہوں نے اُس خاکروبہ کو روتے دیکھا تو انہوں نے خیال کیا کہ یہ محل کے اندر کام کی کرتی ہے شاید محل میں کوئی حادثہ ہو گیا ہے اس لیے یہ رورہی ہے۔ہمیں اس حادثہ کا علم نہیں ہوا۔ایسا نہ ہو کہ ہمیں بے وفا خیال کر لیا جائے۔انہوں نے بھی گھٹنوں پر اپنے سر رکھے اور رونا شروع کر دیا۔اتنے میں چوبدار 4 آئے اور انہوں نے دیکھا کہ سب نو کر رو رہے ہیں۔اس پر انہوں نے بھی خیال کیا کہ ہمیں محل کے پورے حالات سے خبر نہیں ہوسکی۔شاید اندر کوئی حادثہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے یہ سب لوگ رو ر ہے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ ہمارے متعلق یہ خیال کر لیا جائے کہ ہم سب بے وفا ہیں۔اس خیال کے آنے پر انہوں نے بھی دیواروں پر سر رکھے اور رونا شروع کر دیا۔پھر چھوٹے درباری آئے انہوں نے جب ان سب کو روتے دیکھا تو یہ خیال کیا کہ شاید محل میں کوئی حادثہ ہو گیا ہے۔ہم نے محل کے حالات سے پوری طرح خبر نہیں رکھی۔چنانچہ انہوں نے بھی آنکھوں پر رومال رکھے اور رونا شروع کر دیا۔اتنے میں بڑے وزیر آئے انہوں نے بھی جب سب درباریوں کو روتے دیکھا تو اُن سے رونے کی وجہ پوچھنے کی جرات نہ کی اور خیال کیا کہ اگر وہ نہ روئے تو یہ خیال کر لیا جائے گا کہ یہ لوگ محل کے حالات سے اس قدر بے خبر ہیں کہ انہیں پتا ہی نہیں کہ رات کومحل میں کیا حادثہ ہوا ہے۔اس لیے انہوں نے بھی آنکھوں پر رومال رکھ لیے اور رونے کی شکل بنالی۔اتنے میں سب سے بڑا وزیر آیا۔وہ زیادہ سمجھ دار تھا۔وہ رویا نہیں خاموش ر