خطبات محمود (جلد 34) — Page 308
$1953 308 خطبات محمود کی جگہ کھیل ہو۔عبادت کی جگہ عبادت ہو۔کھیل کے میدان میں جاؤ تو بے شک کھیلو گو دو لیکن اگر عبادت کی جگہ میں آؤ تو عبادت میں لگ جاؤ۔نماز کے وقت تو نماز ہوتی ہی ہے۔لیکن اگر نماز کے وقت کے بعد بھی تم مسجد میں جاؤ تو یہی حکم ہے کہ ادب سے بیٹھو اور ذکر الہی کرو۔یہ مقام یعنی ربوہ جس کو خدا تعالیٰ نے تمہارے لیے بطور مقام ہجرت پچتا ہے یہ بھی ایسے ہی ہی مقامات میں سے ہے جن کی مثال ایک مسجد کی سی ہے۔اور اس جگہ جب کوئی شخص آکر بستا ہے، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، عورت ہو یا مرد ، پڑھا ہوا ہو یا ان پڑھ، اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس کی اہمیت کو مد نظر رکھ کر اپنی زندگی گزارے۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں ہجرت کئی قسم کی ہوتی ہے۔کوئی ہجرت ایسی ہوتی ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے لیے ہجرت کر کے جاتا ہے۔پس وہ خدا تعالیٰ کی کے لیے ہی اپنی زندگی وقف کرتا ہے۔اور کوئی ایسی ہجرت ہوتی ہے کہ انسان کسب مال کے لیے ہجرت کرتا ہے۔اس پر وہ اپنے اوقات کو کسب مال کے لیے ہی خرچ کرتا ہے۔پھر کوئی ہجرت کی ایسی ہوتی ہے کہ انسان کو کوئی عورت پسند آجاتی ہے تو وہ اُس کے حصول کی کوشش کے لیے ہجرت کر کے جاتا ہے 3۔پس وہ ہر وقت اسی دھن میں لگا رہتا ہے کہ لڑکی والے اُس پر خوش ہو جائیں اور اسے رشتہ مل جائے۔پس جس کام کے لیے انسان اپنے گھر سے باہر نکلتا ہے وہ اپنا وقت اس کی کے مطابق خرچ کرتا ہے۔جب وہ اُس کام کے مطابق اپنا وقت خرچ نہیں کرتا ہے تو اُسے لغوا اور بے ہودہ قرار دیا جاتا ہے۔اب جو ہجرت دین کے لیے ہوتی ہے اور جو مقام مقامِ دین قرار پاتا ہے وہ سارے کا سارا ایک قسم کا مسجد کا رنگ اختیار کر لیتا ہے۔خانہ کعبہ کو لے لو۔وہ تو مسجد ہے ہی۔لیکن خود مکہ میں رہنا بھی ایک قسم کا مسجد میں رہنا ہے۔جو شخص مکہ میں رہے اُس کا فرض ہے کہ اپنے فارغ اوقات کو عبادت میں لگائے۔مسجد نبوی بھی ایک مسجد ہے۔لیکن جو شخص اُس کے ماحول میں رہتا ہے اُس سے بھی یہ اُمید کی جائے گی کہ وہ سمجھے کہ وہ مسجد میں رہ رہا ہے۔کیونکہ ہر جگہ کے مناسب حال انسان کے اندر خیالات پیدا ہوتے ہیں۔اگر ماحول نیک ہے تو اس کے مطابق انسان کے اندر نیک خیالات پیدا ہونگے۔مثلاً کوئی میت پڑی ہو تو اس کے ارد گر د خاموش رہنا ہے اور ہنسی مذاق نہ کرنا اخلاق کا ایک ضروری حصہ ہے۔اس ماحول کو دیکھ کر ہر نئے آنے والے کے اندر دعا کی تحریک پیدا ہوتی ہے۔لیکن اگر کوئی لاش پڑی ہو اور اُس کے اردگرد بیٹھے ہوئے لوگ