خطبات محمود (جلد 34) — Page 295
$1953 295 خطبات محمود کہہ دے گا اچھا! تمہیں فلاں فن آتا ہے۔اگر وہ یہ کہہ دے گا کہ میں مُردے زندہ کر سکتا ہوں تو ایک جاہل کہہ دے گا اچھا! تم مردہ زندہ کر سکتے ہو۔میرا باپ بھی مر گیا ہے تم اُسے زندہ کر دو۔لیکن ایک عقل مند اُس سے پہلے یہ پوچھے گا کہ تم نے پڑھا کیا ہے؟ مثلاً اگر وہ کہے گا کہ میں بخار کا علاج کرسکتا ہوں تو وہ اُس سے دریافت کرے گا بخار کیا ہوتا ہے اور کیسے ہوتا ہے اگر وہ یہ جواب دے گا کہ مجھے پتا نہیں کہ بخار کیا ہوتا ہے تو ایک تعلیم یافتہ اور عقل مند آدمی با وجود اُس کے بیچ بولنے کے اس پر اعتبار نہیں کرے گا۔پس یہ ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے کہ سب پرانے فنون مٹ گئے ہیں۔ہمارے ملک میں بڑے بڑے ماہر فن تھے جو ختم ہو گئے۔رید مجھے یاد ہے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام دہلی تشریف لے گئے بعد میں آپ نے نانا جان میر ناصر نواب صاحب کو بھی وہاں بلا لیا۔وہاں نانا جان کے پیٹ میں شد درد ہوئی ڈاکٹروں کو دکھایا گیا تو انہوں نے بتایا یہ اپنڈے سائٹس (APPENDICITIS) ہے اور اُس کا آپریشن کرانا پڑے گا۔اور آپریشن بھی تین چار گھنٹے کے اندراندر کرانا پڑے گا ور نہ مریض کی جان خطرے میں ہے۔آپ مریض کو فوری طور پر ہسپتال بھیج دیں۔میر صاحب کا دل کمزور تھا۔وہ آپریشن سے گھبراتے تھے۔انہوں نے کہا آپریشن سے بھی مرنا ہے اور یوں بھی مرنا ہے۔آپ میرا کوئی اور علاج کریں آپریشن نہ کرائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو علم ہوا تو آپ نے فرمایا آپریشن میں زبر دستی تو نہیں کی جاسکتی۔مریض کی مرضی سے ہی آپریشن کی کروایا جا سکتا ہے۔اگر میر صاحب آپریشن کروانا پسند نہیں کرتے تو کسی طبیب سے علاج کرایا ہائے۔چنانچہ ایک پرانا طبیب بلایا گیا۔اُس نے آپ کو دیکھا اور کہا کہ میں ابھی دوا بھجواتا ہوں۔وہ دوا مریض کو کھلا دی جائے۔اور ایک دوا پیٹ پر لگا دی جائے درد ہٹ جائے گا۔چنانچہ انہوں نے دوا بھجوائی اور وہ میر صاحب کو کھلائی گئی اور دوسری دوا پیٹ پر لگائی گئی۔ہمیں پچیس منٹ کے بعد آپ سو گئے۔اور چار پانچ گھنٹے کے بعد آپ بالکل تندرست ہو گئے اور چلنے پھرنے لگے گئے۔اب دیکھو ایک طرف ڈاکٹر کہتا تھا یہ ا پنڈے سائٹس (APPENDICITIS) ہے اس کا فوری طور پر آپریشن کروانا پڑے گا ورنہ مریض کی جان خطرہ میں ہے۔اور دوسری طرف ایک طبیب یہ کہتا ہے کہ یہ معمولی تکلیف ہے دوا سے ٹھیک ہو جائے گی۔غرض کئی فنون تھے جو ہمارے