خطبات محمود (جلد 34) — Page 285
$1953 285 خطبات محمود مجھے یہاں اس لیے مقرر کیا گیا ہے کہ میں کسی کو اندر نہ جانے دوں اس لیے میں آپ کو اندر جانے یا کی اجازت نہیں دے سکتا۔گویا وہ سپاہی بھی ایک مامور ہے۔پھر ایک مامور وہ ہوتے ہیں جن کو خدا تعالیٰ دنیا میں مبعوث کر کے بھیجتا ہے تا وہ دنیا تک اس کا پیغام پہنچائیں یا اس کے پیغام کی اشاعت کریں اور ایک ہر شخص اور ہر قوم مامور ہوتی ہے جس کو کسی خاص مقصد کے لیے کھڑا کیا گیا ہو یا اُس کے سپر د کوئی خاص کام کیا گیا ہو۔پس ہر ای مرسل ، ہر نبی اور ہر وہ شخص جس کو دنیا کی اصلاح کے لیے کھڑا کیا گیا ہو اور ان سے اُتر کر ظلی طور پر ہر ملہم علیہ اور ہر مصلح مامور ہیں۔پھر اُن کے ساتھ اُن کی جماعتیں بھی مامور ہوتی ہیں۔یعنی اُن کی کے سپر د بھی ایک خاص مقصد ہوتا ہے۔دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں آیا کہ خدا تعالیٰ نے اُسے مامور کیا ہواور اُس کی جماعت مامور نہ ہو۔یہ بات ناممکن ہے اس لیے کہ دنیا میں کوئی مامور ایسا نہیں آیا جس کے سپر د کوئی ایسا کام ہو جو ایک شخص سے تعلق رکھتا ہو۔حضرت آدم علیہ السلام سے اس وقت تک کوئی مامور ایسا نہیں گزرا جس کا کام صرف اُس کی ذات سے تعلق رکھتا ہو۔بلکہ اُس کے سپرد ہمیشہ ایسے کام ہوتے ہیں جو ہزاروں ، لاکھوں اور کروڑوں لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں۔جب تک وہ ہزاروں لاکھوں اور کروڑوں لوگ کام نہ کریں وہ کام پورا نہیں ہو سکتا۔اسی لیے مسیح ناصری علیہ السلام نے کہا تھا کہ میں تو اس دنیا سے جاتا ہوں اور ہر ایک آدمی کے لیے اس دنیا سے جانا ہی مقدر ہے۔کیونکہ جب تک میں اس دنیا سے نہ جاؤں وہ کام پورا نہیں ہوسکتا جو تمہارے سپرد کیا گیا ہے اور جوان ہمیشہ رہنے والا اور دائمی ہے۔اور یہی وجہ تھی کہ رسول کریم ﷺ نے حجة الوداع کے موقع پر اسلام کے اہم اصول کو ایک ایک کر کے بیان فرمایا اور کہا۔هَلْ بَلَّغْتُ اے مسلمانو! کیا میں نے وہ فرض ادا نہیں کر دیا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے سپرد کیا گیا تھا ؟ 1۔پھر یہی وجہ تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے " الوصیت "میں تحریر فرمایا کہ:۔" تمہارے لیے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لیے بہتر ہے۔کیونکہ وہ دائمی ہے۔جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا۔اور وہ دوسری قدرت نہیں ہے آسکتی جب تک میں نہ جاؤں۔لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لیے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی 2۔