خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 284

$1953 284 34 دنیا کی اصلاح اور اسلام کی تعلیم کو پھر سے رائج کرنے کا کام اللہ تعالیٰ نے تمہارے سپرد کیا ہے فرموده 9 /اکتوبر 1953ء بمقام۔ربوہ) : تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔کچھ لوگ دنیا میں ایسے ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوتے ہیں یا یوں ہے کہو کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں۔اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور نہیں ہوتے یا یوں کہو کہ وہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور نہیں۔مامور سے میری مراد وہ انسان نہیں جس کو خدا تعالیٰ الہام کر کے کسی خاص مقصد کے لی لیے کھڑا کرتا ہے۔بلکہ اس سے مراد اس کے عام عربی معنی ہیں کہ کسی شخص کو ایک حکم دیا گیا ہو۔پس مامور کے معنے ہیں وہ جسے حکم دیا گیا، کوئی کام سپر د کیا گیا۔مثلاً ایک سپاہی کو کسی جگہ کھڑا کیا گیا ہو اور اُسے یہ حکم دیا گیا ہو کہ وہ کسی کو دروازے سے اندر نہ آنے دے۔اُس کے پاس اُس کا کوئی عزیز یا رشتہ دار یا دوست آتا ہے۔اور وہ خواہش کرتا ہے کہ میں تمہارا عزیز ہوں، رشتہ دار ہوں یا دوست ہوں مجھے اندر جانے کی اجازت دے دو۔تو وہ کہتا ہے کہ میں مجبور ہوں، میں مامور ہوں۔خطبات محمود