خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 168

$1953 168 خطبات محمود صلى الله تو سارے مسلمان کہیں گے اسلام زندہ باد، محمد رسول اللہ ﷺ زندہ باد۔اس طرح جس دن مولویوں کے نے کہا کہ کمیونزم عین اسلام ہے۔جو کچھ قرآن کہتا ہے۔وہی لینن اور سٹالن کہتا ہے۔رازی نے قرآن کو نہیں سمجھا ، قرطبی نے قرآن کو نہیں سمجھا ، ابن حیان نے قرآن کو نہیں سمجھا ، ابنِ جریر نے قرآن کو نہیں سمجھا، سیوطی نے قرآن کو نہیں سمجھا۔قرآن سمجھا ہے تو لینن اور سٹالن نے سمجھا ہے۔تو ی سارے مسلمان کہہ اٹھیں گے لینن زندہ باد، سٹالن زندہ باد ، اسلام زندہ باد۔پس ہم سے زیادہ کمیونزم کے خطرے میں اور کوئی نہیں۔کیونکہ اور ممالک کے لوگوں تک پہنچنے کے لیے عقل کی ضرورت ہے اور ہمیں صرف بے وقوف بنانے کی ضرورت ہے۔ہمارے ملک کا مسلمان یہ نہیں سوچے گا کہ یہ تعلیم قرآن کے خلاف ہے۔وہ صرف اتنا سنے گا کہ " اسلام خطرہ میں ہے " اور اس کے بعد وہ اسلام کے نام پر ہر خلاف اسلام کام کرنے کے لئے تیار ہو جائے گا۔وہ یہ نہیں جانتا کہ اسلام ہے کیا۔مگر اُسے یقین دلا دو کہ اسلام خطرہ میں ہے تو پھر چاہے اسلام کے خلاف ہی اُس سے لڑائی شروع کر وا دو وہ لڑنے کے لیے تیار ہو جائے گا۔کیونکہ اگر کسی مسلمان کو جوش آ سکتا ہے تو صرف ان الفاظ سے کہ اس وقت اسلام خطرہ میں ہے بلکہ تم اگر یہ کہو کہ تو حید کے ماننے سے اس وقت اسلام خطرہ میں ہے تو وہ یہ بھی نہیں سوچے گا کہ توحید کتنی اہم چیز ہے۔وہ فوراً اسلام کے نام پر تو حید کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہو جائے گا۔پس میں نے اُسے کہا کہ تم غلطی پر ہو۔سب سے زیادہ خطرہ کمیونزم سے پاکستان کو ہی ہے۔اس لیے نہیں کہ ہمارا مذ ہب اس کی تائید میں ہے۔ہمارا مذہب یقیناً اس کے خلاف ہے۔اس لیے بھی نہیں کہ ہماری اقتصادی حالت ایسی ہے کہ یہاں کمیونزم پھیل سکتا ہے۔ہماری اقتصادی حالت بے شک گری ہوئی ہے لیکن پھر بھی وہ اس حد تک گری ہوئی نہیں کہ کمیونزم کے پھیلنے کے اس میں ایشیا کے دوسرے ممالک سے زیادہ امکانات ہوں۔یہاں اگر کمیونزم کو خطرہ ہے تو صرف اس لیے کہ مسلمانوں کو نعرہ بازی کی عادت ہے۔ایک لیڈ راٹھ کر کوئی نعرہ لگا دے تو سارے مسلمان اُس کے پیچھے چلنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔چنانچہ باوجود اس کے کہ ہماری جماعت کے خلاف جو فتنہ اٹھایا گیا تھا اس میں انہیں ناکامی ہوئی میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے ملک کے بعض لیڈر پھر یہ سوچ رہے ہیں کہ اس سلوگن اور لمصل نعرہ بازی سے فائدہ اٹھایا جائے اور پھر مسلمانوں کو فتنہ و فساد پر آمادہ کیا جائے۔چنانچہ کل " مصلح