خطبات محمود (جلد 34) — Page 167
$1953 167 خطبات محمود بھجوا دی۔پچاس سال مجھے کام کرتے ہو گئے آج تک تو اُس نے کبھی کھیر نہیں بھجوائی تھی۔آج اُسے یہ کیا خیال آ گیا ؟ لڑکا کہنے لگا کھیر میں کتا منہ ڈال گیا تھا۔اماں کہنے لگی کہ جاؤ اور جا کر مولوی صاحب کو دے آؤ۔اُسے غصہ آیا اور اس نے برتن اٹھا کر زمین پر دے مارا۔مٹی کا برتن تھا زمین پر پڑتے ہی وہ ٹوٹ گیا۔یہ دیکھ کر لڑ کا رونے لگ گیا۔اُس نے کہا تو کیوں روتا ہے کھیر اگر ی میں نے نہیں کھائی تو میری مرضی ہے۔تیرے لیے اس میں رونے کی کونسی بات ہے؟ کہنے لگا میں روتا اس لیے ہوں کہ یہ برتن وہ تھا جس میں اماں بچے کو پاخانہ پھروایا کرتی تھی۔وہ ٹوٹ گیا ہے۔اور اب اماں مجھے مارے گی۔۔غرض اکثریت مولویوں کی ایسی ہی ہے جن کے گزارے نہایت ادنی ہیں۔سوائے شہروں کے چند مولویوں کے کہ انہیں لوگوں میں عزت حاصل ہے۔کیونکہ حکومت کی طرف سے انہیں وظیفے ملتے ہیں یا انہوں نے تجارتوں میں حصہ لیا ہوا ہے یا اپنے نام الاٹمنٹیں کروا رکھی ہیں۔باقی سب ایسے ہیں جو جمعرات کی روٹی پر گزارہ کرتے ہیں۔اور یا پھر شادی بیاہ یا کسی کی موت پر تھی نہایت ذلیل کام کر کے چونی یا ٹھنی لے لیتے ہیں۔اور یا پھر عید الاضحیہ کے موقع پر قربانی ہوتی ہے تو اُس کی کھالیں لے لیتے ہیں۔مگر اب عید کی کھالوں پر بھی چیل کی طرح کبھی کوئی مدرسے والا جھپٹا مارتا ہے کبھی کوئی خانقاہ والا جھپٹا مارتا ہے اور کبھی کوئی بتامی و مساکین اور بیوگان کے نام پر اس میں شریک ہو جاتا ہے۔غرض قربانی کی کھال بھی اب صرف آدھی یا پونی ملاں کو ملتی ہے۔گویا سارے سال میں دس پندرہ روپے اُسے کھال کے مل جاتے ہیں۔میں نے کہا جو شخص اتنا بھک منگان ہے اور جس کا مالی لحاظ سے اتنا بُرا حال ہے اُس کو خرید لینا کونسا مشکل کام ہے۔جس دن کمیونسٹوں نے چند ایک ملانوں کی چار چار پانچ پانچ سو روپیہ تنخواہ مقرر کر دی تم دیکھو گے کہ وہ باقی ملانوں کو اپنے ساتھ ملالیں گے اور سب مل کر سارے ملک کو اپنے ساتھ ملالیں گے کیونکہ ہمارا ملک مولوی کے اثر کے نیچے ہے۔کہنے لگا اگر اس بات کو مان بھی لیا جائے تو آخر وہ اسلام کی تعلیم کے خلاف کیا کہیں گے؟ میں نے کہا تم نے ہمارے ملک کے کیریکٹر کا مطالعہ نہیں کیا۔ہمارے ملک کا کیریکٹر قرآن اور حدیث کے نہ جانے کی وجہ سے یہ ہے کہ اگر مولوی کھڑا ہو جائے اور کہے کہ اس وقت قرآن سے محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت اور اسلام کی عزت خطرہ میں ہے اس وقت قرآن پر عمل نہیں کرنا چاہیئے۔