خطبات محمود (جلد 34) — Page 164
$1953 164 خطبات محمود میں سے اکثر کی نیت پر شبہ نہیں کرتے۔ہمیں سیاسیات کا علم ہے اور ہم نے تاریخ کا بھی مطالعہ کیا ہوا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ تمام حکومتیں ایسا ہی کرتی ہیں۔کیونکہ علم النفس کے ماتحت لوگوں کے جوش اُسی وقت ٹھنڈے ہوتے ہیں جب انہیں معلوم ہو کہ سب جگہ امن ہے۔اگر انہیں پتا لگے کہ بعض ا مقامات پر امن نہیں تو وہ خود بھی امن سے نہیں بیٹھتے۔کیونکہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے کوئی شورش نہ کی تو لوگ ہمیں طعنہ دیں گے کہ تم نے تو کچھ بھی نہیں کیا۔اسی وجہ سے حکومتوں کا عام دستور یہی ہے کہ ابتدا میں جو خبر میں نکل جائیں سو نکل جائیں بعد میں وہ یہ پروپیگنڈا شروع کر دیتی ہیں کہ سب جگہ امن قائم ہو گیا ہے۔تا کہ ایک جگہ کے لوگ دوسری جگہوں کی خبریں سن کر بیٹھ جائیں اور فتنہ وفساد کو کی ترک کر دیں۔بہر حال ان حالات میں سے دو اڑھائی ماہ کے قریب ہماری جماعت گزری۔بسا اوقات ہمیں بیرونی جماعتوں کی طرف سے پچٹھیاں پہنچتی تھیں کہ اَلْحَمْدُ لِلہ پنجاب میں امن قائم ہو گیا ہے اور جماعت کے خلاف شورش دب گئی ہے۔مگر اُسی وقت ہمیں پنجاب کی مختلف اطراف سے یہ اطلاعات پہنچ رہی ہوتی تھیں کہ فلاں کا گھر لوٹ لیا گیا ہے فلاں جگہ عورتوں اور بچوں پر حملے کئے جار ہے ہیں۔اور انہیں بچا بچا کر محفوظ مقامات پر پہنچایا جارہا ہے، فلاں کا گھر جلا دیا گیا ہے۔مگر باہر کی جماعتوں کی طرف سے مبارک باد اور خوشی کے خطوط پہنچ رہے ہوتے تھے کہ الحَمدُ لِلہ گورنمنٹ کے اعلانات سے معلوم ہوتا ہے کہ اب ہر طرح خیریت ہے۔پس آپ لوگ کی اس مصیبت کا اندازہ نہیں لگا سکتے جس میں سے پنجاب کے لوگوں کو گزرنا پڑا۔کیونکہ سندھ ، سرحد اور بنگال میں اُن فسادات کا ہزارواں حصہ بھی ظاہر نہیں ہوا جو پنجاب میں ظاہر ہوئے۔اس وجہ سے یہاں کے لوگ امن میں رہے اور خیریت سے رہے۔لیکن باوجود اس کے کہ ان فسادات نے پنجاب میں انتہائی نازک صورت اختیار کر لی تھی وہ تغیرات جو گورنمنٹ میں پیدا ہوئے اُن کی وجہ سے بھی اور کچھ اس وجہ سے بھی کہ حکام کا ایک حصہ ایسا تھا جو دیانت دار تھا اور اپنے فرائض کو ادا کرنا چاہتا تھا یہ فتنہ آخر دب گیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس فتنہ کی روح ابھی باقی ہے۔اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اگر ی آئندہ فتنہ اٹھے تو وہ شاید پنجاب کی بجائے سندھ میں پیدا ہو یا بنگال میں پیدا ہو یا ممکن ہے پنجاب