خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 163

$1953 163 خطبات محمود ظاہر کیا جائے کہ ہر طرح امن ہے۔اور اس میں وہ معذور تھی کیونکہ پولیٹیکل اصول کے مطابق تسلیم کیا گیا ہے کہ اگر فتنہ و فساد کی خبریں پھیلیں تو لوگوں میں اور بھی جوش پھیل جاتا ہے۔پس گورنمنٹ کے اکثر حکام کی یہ کارروائی کسی بدنیتی پر مبنی نہیں تھی بلکہ مصلحت اس بات کا تقاضا کرتی تھی۔لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ باہر کی جماعتیں مرکز اور پنجاب کے حالات سے ناواقف رہیں۔یہاں تک کہ جب حکومت نے دیکھا کہ خطوں کے ذریعہ ناظر دعوۃ و تبلیغ باہر کی جماعتوں کو اپنے حالات سے اطلاع دیتے ہیں تو انہوں نے اُن خطوط کو بھی کسی قانونی عذر کے ماتحت روک دیا۔اُن دنوں پنجاب کے اکثر اضلاع کے احمدیوں کی حالت ایسی ہی تھی جیسے لومڑ کا شکار کرنے کے لئے شکاری کتے اس کے پیچھے پیچھے دوڑے پھرتے ہیں اور کو مڑ اپنی جان بچانے کے لیے کبھی ادھر بھاگتا ہے اور کبھی اُدھر بھاگتا ہے۔اُن ایام میں لا ریاں کھڑی کر کر کے احمدیوں کو نکالا جا تا ہے اور انہیں پیٹا جاتا۔اسی طرح زنجیریں کھینچ کر گاڑیوں کو روک لیا جا تا اور پھر تلاشی لی جاتی کہ گاڑی میں کوئی احمدی تو نہیں۔اور اگر کوئی نظر آتا تو اُسے مارا پیٹا جاتا۔اسی طرح ہزاروں ہزار کے جتھے بن کر دیہات میں نکل جاتے اور گاؤں کے دس دس پندرہ پندرہ احمدیوں پر حملہ کر دیتے۔یا اگر ایک گھر ہی کسی احمدی کا ہوتا تو اُسی گھر پر حملہ کر دیتے۔مال اسباب ٹوٹ لیتے ، احمدیوں کو مارتے ہے پیٹتے۔اور بعض شہروں میں احمدیوں کے گھروں کو آگ بھی لگائی گئی۔بیسیوں جگہوں پر احمدیوں کے لیے پانی روک دیا گیا اور تین تین چار چار دن تک وہ ایسی حالت میں رہے کہ انہیں پانی کا ایک قطرہ تک بھی نہیں مل سکا۔اسی طرح بعض جگہ ہفتہ ہفتہ دو دو ہفتے وہ بازار سے سودا بھی نہیں خرید سکے۔بیرونی جماعتیں ان حالات سے ناواقف تھیں وہ گورنمنٹ کے اعلانوں کو سن کر کہ ہر طرح امن ہے اور خیریت ہے خوش ہو جاتی تھیں۔حالانکہ جس وقت خیریت کے اعلان ہوتے تھے وہی سب سے زیادہ احمدیوں کے لیے خطرے کا وقت ہوتا تھا۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ حکومت کے اکثر افسروں کی نیت نیک تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر ملک میں یہ خبریں پھیلیں کہ لوگ احمدیوں پر سختی کی کر رہے ہیں تو دوسری جگہوں کے لوگ بھی ان پر سختی کرنے لگ جائیں گے۔اس لیے امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ متواتر یہ اعلان کیسے جائیں کہ سب جگہ امن ہے تا کہ شورش دب جائے اور لوگ سمجھ جائیں کہ جب سب جگہ امن ہے تو ہمیں فساد کرنے کی کیا ضرورت ہے۔پس ہم ان