خطبات محمود (جلد 34) — Page 161
$1953 161 خطبات محمود لگائی ہے میں اس سے زیادہ نہیں لوں گا 1۔تو دیکھو یہ کتنی شاندارلڑائی تھی۔ایک کہتا ہے کہ میں اس گھوڑے کے دو ہزار روپے لوں گا لیکن دوسرا کہتا ہے نہیں میں اس کے تین ہزار روپے دوں گا۔لیکن تمہارا یہ حال ہے کہ دو آنے کی چیز کی قیمت تین آنے مقرر کی جائے تو پھر بھی اُسے ظلم کہتے ہو۔اگر تم مہاجر ہو تو کیا ہوا۔کیا دوسرے لوگ مہاجر نہیں ؟ بسا اوقات دوسرا آدمی تم سے ނ زیادہ مصیبت میں ہوتا ہے۔لیکن تمہاری یہ حالت ہے کہ لُوٹ کھسوٹ کی وجہ سے تم دوسروں نے زیادہ کمارہے ہو۔میں جانتا ہوں کہ یہاں کے بعض دکانداروں کی حالت قادیان سے اچھی ہے۔پس میں دکانداروں سے کہتا ہوں کہ تم یہ سب بے ایمانیاں ترک کر دو۔اور دوسروں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ تم یہ بے ایمانیاں ترک کراؤ۔برف ایسی چیز ہے کہ اگر تم میں حسن ہوتی تو دکانداری دو دن میں سیدھے ہو جاتے۔آخر وہ علاقے بھی ہیں جہاں برف نہیں ملتی۔اگر تم ایک دن اکٹھے ہو کر یہ فیصلے کر لیتے کہ ہم برف نہیں لیں گے تو جود کا ندار اب دو آنے فی سیر بیچنے کو بھی ظلم کہہ رہے ہیں وہ تمہارے سامنے ہاتھ جوڑتے اور کہتے تم ڈیڑھ آنہ فی سیر لے لو۔ہمیں ایک غیر مبائع دوستی نے کہا ہے کہ اگر مجھے دکان کی اجازت دی جائے تو میں پانچ پیسے فی سیر کے حساب سے برف بیچوں گا۔میں نے کہا یہ لوگ مہاجر ہیں پہلے انہیں سمجھا لو۔اگر انہوں نے اپنی اصلاح نہ کی تو ہم مجبور ہوکر ایسا انتظام کر لیں گے پھر ہم دیکھیں گے کہ برف پانچ پیسے فی سیر بکتی ہے کہ نہیں۔جب تک تم اپنے نفس کی اصلاح نہیں کر لیتے ، جب تک دیکھنے والا یہ نہ کہے کہ ان لوگوں کے ایمان میں اور ہمارے ایمان میں فرق ہے، جب تک وہ یہ نہ کہے کہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لا کر ان لوگوں کے عمل میں بھی نیکی پیدا ہوگئی ہے، جب تک وہ یہ نہ کہے کہ قرآن کریم کو ماننے کے نتیجہ میں ان لوگوں کے کاروبار میں بھی دیانت آگئی ہے۔اُس وقت تک تمہارا ایمان اور تمہارے عقائد چیتھڑوں اور کاغذ کے ٹکڑوں کے برابر بھی نہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بے کار چیزیں ہیں۔“ لمصلح 12 جولائی 1953ء) 1: المعجم الكبير حافظ ابو القاسم سلیمان بن احمد الطبرانی جلد 2 صفحہ 334 ، 335 حدیث نمبر 2395۔دارالاحياء التراث العربي۔