خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 160

$1953 160 خطبات محمود اس طرح مجھ پر ظلم کیا جاتا ہے۔وہ اتنا بے حیا تھا کہ بازار میں یہ بات کہتا رہا۔اب تم سمجھ سکتے ہو کہ ایسا بے حیا انسان بھی کہیں مل سکتا ہے۔اگر اُس میں انسانیت ہوتی تو وہ ایسا کبھی نہ کرتا اور یہاں سے چلا جا تا کہ میری کمینگی اور میر اظلم گھل گیا ہے۔میرے نزدیک ان لوگوں نے یہ بھی جھوٹ بولا ہے کہ نو روپے میں چارمن برف ملتی ہے۔ایک احمد یہ کمپنی کو گوجرہ میں برف کی ایک مشین ملی ہے۔وہاں سے رپورٹ ملی ہے کہ ایک من برف کا ریٹ 1 روپے 12 آنے مقرر ہے اور جب تحقیقات کرائی گئی تو چنیوٹ سے یہ پتا لگا ہے کہ چھ روپے کو چارمن کا ایک بلاک ملتا ہے۔گویا گوجرہ میں 1 روپیہ 12 آنے کو ایک من برف ملتی ہے اور چنیوٹ میں 1 روپیہ 8 آنے کو۔اگر یہ بات درست ہے اور 1 روپیہ 8 آنے ہی نقصان لگا لو۔تو یہ تین روپے فی من ہو گئے گویا سارے خرچ لگانے کے بعد بھی قریباً 1 آنہ 3 پائی فی سیر پڑی۔اب دکاندار کو 3 آنے فی سیر کے حساب سے بیچنے کو کہا گیا تو اُس پر کون سا ظلم ہوا۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک یہ لوگ گاہکوں کی کھال نہ کھینچ لیں اور اُن کے کپڑے نہ اُتار لیں ان کے کا پیٹ نہیں بھرتا۔ایسا ظالم اگر کہے کہ میں ایمان لے آیا ہوں تو اس سے کیا بنتا ہے۔وہ ایمان کا بے شک دعویٰ کرتار ہے لیکن احمدیت تو الگ رہی ایک ہندو سکھ اور ایک دہر یہ خاندان سے تعلق رکھنے والا آدمی بھی اتنا ظالم نہیں ہوتا۔پس تمہارا کام ہے کہ تم اس بے ایمانی کو دور کرو۔یہ نہیں کہ تم صرف عمل کراؤ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ظاہر صاف ہو اور باطن گندار ہے۔طاقت کے استعمال سے مکمل اصلاح نہیں ہوتی۔طاقت سے ظاہر کی اصلاح ہو جاتی ہے لیکن دل کا گند باقی رہتا ہے۔اس لیے جب بھی تمہاری طاقت کم ہو جائے گی۔تو یہ لوگ بگڑ جائیں گے۔تمہارا کام ہے کہ تم اخلاق - تدبیر سے اور اپنی نفرت سے یہ ثابت کر دو کہ تم اس بے ایمانی کو برداشت نہیں کر سکتے۔جب تمہارے ہمسایہ سے بے ایمانی نکل جائے گی تو تم محفوظ ہو جاؤ گے۔صحابہ کی دیانت کو دیکھو۔ایک صحابی دوسرے صحابی کے پاس گھوڑا بیچنے گئے اور کہا میرا گھوڑا مثلاً دو ہزار روپے کا ہے۔لیکن دوسرے صحابی نے کہا میں اسے تین ہزار روپے میں خریدنا چاہتا ہوں۔میں گھوڑوں کا کاروبار کرتا ہوں۔تمہیں پتا نہیں کہ یہ گھوڑا کتنی قیمت کا ہے۔میں جانتا ہوں یہ گھوڑا تین ہزار روپے کا ہے۔گھوڑے کے مالک نے کہا میں نے اس کی قیمت دو ہزار روپے تھے سے،