خطبات محمود (جلد 34) — Page 97
$1953 97 خطبات محمود یا وتر سوکھ جاتا ہے تو اس وقت بیج ڈالتا ہے۔ایسا شخص اگر بسم اللہ پڑھتا ہے تو اس کا کہ فائدہ۔فرشتے اُس پر لعنت بھیجتے ہیں اور کہتے ہیں تم نے تو رحیمیت کی ہتک کر دی۔خدا تعالیٰ کی صفت رحیمیت تو کہتی تھی کہ تو ہل چلائے ، سہا گا پھیرے، پانی دے۔وتر آئے تو صحیح موسم میں بیج ڈالے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ تم میری دی ہوئی چیزوں کو اس طرح استعمال کرو کہ تمہیں اُس کا بدلہ ملے لیکن تو نے ایسا نہیں کیا۔اگر تم اس طرح پر بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ پڑھو تو تمہاری زندگی کے سارے اعمال درست ہو جائیں۔ہر کام جو تم کرتے ہو دیکھو کہ جس شکل میں تم اُسے کرنے لگے ہو۔اُس کے نتیجہ کا خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے یا نہیں۔اگر نتیجہ کا وعدہ خدا تعالیٰ نے کیا ہے تو ان چیزوں کا استعمال جائز ہے۔اس میں صفت رحمانیت بھی آگئی اور صفت رحیمیت بھی۔اگر تم دوسرے کا 3 مال چھرا کر استعمال کرتے ہو۔تو صفت رحمانیت اُڑ گئی۔اور اگر اُسے بے موقع استعمال کرتے ہو تو ی صفت رحیمیت اُڑ گئی۔اس قسم کی بسم اللہ پڑھنے کا فائدہ کیا ؟ پس جو بسم اللہ پڑھ کر چوری کرتے ہی ہیں۔اور کہتے ہیں کہ بسم اللہ پڑھنے سے برکت حاصل ہوتی ہے لوگ ہمیں پکڑ نہیں سکتے، بعض مالدار ہیں وہ دولت کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ایسا کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھتے ہیں۔اب اس کی میں صفت رحمانیت تو ہے مگر صفت رحیمیت کہاں سے آئے گی۔اللہ تعالیٰ نے جو شرط رکھی تھی وہ انہوں نے پوری نہیں کی۔عیسائی لوگ لفظ رحیم پڑھتے ہیں رحمان نہیں پڑھتے۔انہوں نے رحمانیت کو کسی اور کے وجہ سے چھوڑا ہے اور یہ بات اُن کے عقائد کے مطابق ٹھہرتی ہے۔لیکن ایک مسلمان کو حکم ہے کہ جو طاقت اُسے ملی ہے وہ اقرار کرے کہ وہ طاقت اُسے خدا تعالیٰ نے ہی دی ہے۔اور وہ اُسے صحیح طور پر استعمال کرے تا اُسے اُس کا وہ بدلہ ملے جس کا خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے۔گویا ہر کام کا شروع اور آخر اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھا ہے۔رحمانیت کے اندر آغاز کو بیان کیا گیا ہے اور رحیمیت میں انجام کو بیان کیا گیا ہے۔پس الله الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ پڑھ کر مومن اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اس کا آغاز بھی اور انجام بھی خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔اعمال خدا تعالیٰ نے ہی بنائے ہیں۔هُوَ الْاَوَّلُ وَالْآخِرُ 8 وہ ابتدا کرنے والا بھی ہے اور اسی طرح انجام بھی اُسی کے ذریعہ ہوتا ہے۔یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے گرد انسان چکر لگا رہا ہے۔جیسے حج کے ایام میں حاجی حجر اسود کے گرد طواف کرتے ہیں۔جہاں سے وہ چلتے ہیں وہیں