خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 68

1952 68 خطبات محمود۔کرتا ہے۔مثلاً اگر وہ اقرار کرتا ہے کہ میں فلاں کام نہیں کروں گا اور پھر وہ بات اس کے سامنے آجاتی ہے اور وہ اپنے اقرار کے مطابق اس سے بچتا ہے تو اس کے بدلہ میں اسے یقیناً جنت ملے گی۔یا اس کے پاس کسی کا روپیہ تھا جو اس نے واپس کرنا تھا اب یہ دوسرے کا حق ہے جو اس نے بنا ہے۔اگر وہ کہتا ہے کہ میں یہ روپیہ نہیں دیتا تو وہ اسلام کی تعلیم کے خلاف عمل کرتا ہے۔لیکن اگر وہ کہتا ہے کہ میں نے واقعی تمہارا روپیہ دینا ہے تم وہ روپیہ لے لو تو خدا تعالیٰ اپنے فرشتوں کی سے کہے گا کہ اس شخص نے دوسرے کا حق ادا کرنے کے لئے اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالا۔اسے جنت میں لے جاؤ۔اسی طرح غفلت ہے ، سستی ہے۔تمہارا کسی کام کو جی نہیں چاہتا لیکن تم اپنے نفس پر زور دیتے ہو اور کہتے ہو کہ میں نے لَا اِلهَ إِلَّا اللہ کہہ کر اقرار کیا ہے کہ میں نے یہ کام ضرور کرنا ہے اور تم وہ کام کر دیتے ہو اور اس میں جو تکلیف ہوتی ہے اُسے برداشت کر لیتے ہو تو خدا تعالیٰ فرشتوں سے کہے گا کہ اس نے جو اقرار کیا تھا اسے اس نے پورا کر دیا ہے اسے جنت میں لے جاؤ۔لیکن اگر کسی نے رسول کو رسول کہہ دیا تو اس نے سچ کہا۔اس پر اُسے کیا انعام ملے گا۔انعام محنت اور قربانی کے نتیجے میں ملتا ہے۔پہاڑ کو پہاڑ کہہ دینے سے انعام نہیں ملتا ، دریا کو دریا کہہ دینے سے انعام نہیں ملتا، چاند کو چاند کہہ دینے سے انعام نہیں ملتا۔بلکہ انعام پہاڑ پر چڑھنے سے ملتا ہے۔انعام دریا کو گودنے سے ملتا ہے۔انعام سورج کو سورج کہنے سے نہیں ملتا بلکہ انعام اُس کی روشنی سے فائدہ اٹھانے سے ملتا ہے۔اسی طرح خدا کو خدا اور کی رسول کو رسول کہنے سے انعام نہیں ملتا۔یہ تو سچائیاں ہیں۔اگر تم ان کا انکار کرو گے تو دنیا تمہیں پاگل کہے گی۔لیکن اگر تم خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کی تعلیم پر عمل کرتے ہو تو تم یقیناً جنت کے وارث بنو گے۔ہندہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید دشمن تھی۔اس نے آپ کے بعض رشتہ داروں کی کے متعلق اعلان کیا ہوا تھا کہ ان کا پیٹ چاک کر کے کلیجے نکال لئے جائیں اور ان کے ناک کان کی وغیرہ کاٹ لئے جائیں۔عرب میں یہ رسم تھی کہ اپنے دشمن کو ذلیل کرنے کے لئے اُس کے ناک اور کان وغیرہ کاٹ دیئے جاتے۔چنانچہ ہندہ نے حضرت حمزہ کا پیٹ چاک کرا کے آپ کا کلیجہ نکلوایا تھا۔اسی طرح آپ کے کان اور ناک بھی کٹوائے۔جب مکہ فتح ہوا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم