خطبات محمود (جلد 33) — Page 370
1952 370 خطبات محمود پڑھوا لیں۔اس غرض کے لئے بیسیوں لوگ اپنی شادیاں ملتوی کر دیتے ہیں۔ایسے دوستوں کی نج خواہش ہو گی کہ میں اُن کے نکاح کے اعلان پڑھوں۔لیکن چونکہ نکاحوں کے اعلان پر گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ لگ جاتا ہے اور جلسہ سالانہ کے پروگرام میں اتنی دیر تک رُکا نہیں جاسکتا اس لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ 28 دسمبر کو مغرب اور عشاء کے درمیان نکاحوں کا اعلان کر دیا جائے۔سو دوست یا درکھیں 28 دسمبر کو شام اور عشاء کے درمیان نکاحوں کا اعلان کر دیا جائے گا۔جو دوست مجھ سے نکاح پڑھوانا چاہتے ہیں وہ اپنے اپنے کاغذات تیار رکھیں اور 28 دسمبر کو جمع کر کے دفتر پرائیوٹ سیکرٹری میں پہنچا دیں۔میں آج ہی نکاحوں کا اعلان کر دیتا لیکن ایجاب و قبول میں اتنا وقت لگ جاتا ہے کہ نہ صرف خطبہ اور نماز کے لئے وقت نہ بچتا بلکہ جلسہ کا کچھ وقت بھی اس میں کی صرف ہو جا تا۔اس لئے مجبوراً میں نے نکاحوں کا اعلان نہیں کیا۔ایک دو اعلان ہوتے تو میں انہیں ان نکاحوں کے اعلانات کے ساتھ شامل کر لیتا۔ایسے موقع پر وقت نہایت قیمتی ہوتا ہے اور تھوڑا ہوتا ہے۔اس لئے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اس سے ہم زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔آج جلسہ کا دن ہے اور ساتھ ہی جمعہ کا دن بھی ہے اس لئے گویا جمعہ کے اندر جلسہ کا تداخل ہو گیا ہے یعنی جلسہ کے اندر جمعہ کا تداخل نہیں ہوا۔اس لئے کہ جمعہ دائی چیز ہے اور جلسہ عارضی چیز ہے۔اس لئے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ جلسے کے اندر جمعہ کا تداخل ہو گیا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ جمعہ کے اندر جلسہ کا تداخل ہو گیا ہے۔اس لئے میں اختصار کے ساتھ خطبہ جمعہ کو ایک دومنٹ میں ختم کرنا چاہتا ہوں تا نماز کے لئے وقت بچ سکے۔افسوس ہے کہ آج افتتاحی تقریر کے موقع پر گو میں صرف دو چار منٹ بولا لیکن اتنا بولنے کی وجہ سے بھی میرا گلا بیٹھ گیا اور ڈر ہے کہ میں آئندہ تقاریر کے موقع پر بول سکوں گا یا نہیں۔میں علاج میں لگا ہوا ہوں لیکن تاہم آواز بیٹھ رہی ہے۔صرف ایک دومنٹ میں اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ جو لوگ جلسہ کے موقع پر یہاں آتے ہیں وہ جلسہ سننے کے لئے یہاں آتے ہیں اس لئے اُنہیں اپنے اوقات کو زیادہ سے زیادہ مفید کاموں میں خرچ کرنا چاہیے۔یہ دن در اصل عبادت کے قائمقام ہیں۔مسلمانوں پر حج فرض کیا گیا ہے۔اس فرض کو پورا کرنے کے لئے لوگ مکہ جاتے ہیں جہاں ہمارے آقا سید الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔اور پھر ایک لمبے عرصہ تک اپنی زندگی وہاں گزاری تا آپ کی وجہ سے جو برکات مکہ مکرمہ کومیں اُن سے وہ بھی کچ