خطبات محمود (جلد 33) — Page 335
1952 335 خطبات محمود پر الزامات لگائے اور آپ کو بدنام کیا۔میں نے انہی حالات کو دیکھتے ہوئے اور ان کی غرض و غایت کو پہچانتے ہوئے جماعت کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ نوجوان آگے آئیں اور اشاعت اسلام کے لئے اپنی جانیں پیش کریں۔وہ اپنی زندگیاں سلسلہ کے لئے وقف کریں اور باقی لوگ اپنی جیبیں کھولیں اور چندے دیں۔خدا تعالیٰ نے آپ لوگوں کے دل کھول دیئے اور آپ نے تحریک جدید میں چندہ دے کر حصہ لیا اور نو جوانوں کے دل کھولے اور انہوں نے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔لیکن اب آہستہ آہستہ لوگوں کو مصیبت کے دن بھول گئے ہیں۔حالانکہ مصائب آگے سے بھی زیادہ ہیں۔اب نوجوان کی پہلے کی طرح اپنی زندگیاں وقف نہیں کر رہے۔بلکہ جنہوں نے اپنی زندگیاں وقف کی تھیں۔اُن کی میں سے بعض نے آہستہ آہستہ کھسکنا شروع کر دیا ہے۔شروع میں میں نے یہ طریق رکھا تھا کہ جو واقف زندگی اپنے وقف سے بھاگے اُسے جماعت سے خارج کر دیا جاتا تھا۔لیکن بعد میں میں نے سمجھا کہ جو اس قسم کے گندے لوگ ہیں ہمیں اُن کو رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔جو شخص ہمارا نہیں اسے ہم کیوں لیں۔اس لئے جو شخص جاتا ہے اُسے جانے دو۔چنانچہ جن نو جوانوں نے کہا ت کہ ہم وقف میں نہیں رہنا چاہتے اور اُن کے ذمہ کوئی تعلیمی یا دوسرا قرض نہ تھا میں نے انہیں فارغ کرنا شروع کر دیا۔اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ یہ لوگ کسی نہ کسی معیار کے کمزور ضروری ہیں۔یا تو وہ پورے غدار ہیں یا آدھے غدار ہیں یا چوتھا حصہ غدار ہیں یا ان میں دسواں ، بیسواں پچاسواں ،سواں یا ہزارواں حصہ غداری کا پایا جاتا ہے۔اور غداری نہیں تو کمزوری ضرور ہے۔بہر حال وہ شخص جو ایک دفعہ وقف کرتا ہے اور پھر اس سے پیچھے ہلتا ہے غداری یا کمزوری سے پاک نہیں۔اب ہماری یہ پالیسی ہے کہ جس شخص نے ہمارا روپیہ استعمال نہیں کیا وہ اگر وقف سے فراغت مانگتا ہے تو مانگ لے۔ہم اُسے اجازت دے دیتے ہیں۔ہاں ہم ان کو بُرا ضرور مانتے ہ ہیں جو وقف سے بھاگنا تو چاہتے ہیں لیکن وہ ہمارے منہ سے کہلوانا چاہتے ہیں کہ تم چلے جاؤ۔مثلاً وہ کام خراب کرنا شروع کر دیتے ہیں ایسے لوگ یقیناً غدار ہیں۔لیکن جو شخص خود کہتا ہے کہ میں وقف سے فارغ ہونا چاہتا ہوں ہم اُسے فارغ کر دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس کی کے ایمان میں کمزوری ہے۔شاید باہر جا کر اس کا ایمان مضبوط ہو جائے۔لیکن جو شخص ہمیں دھوکا کی دینا چاہتا ہے وہ باہر جا کر بھی کمزور اور بے ایمان ہی رہے گا۔