خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 298

1952 298 خطبات محمود محصور ہونا پڑا اور مکہ کے رہنے والوں کی طرف سے آپ کا بائیکاٹ کر دیا گیا۔اُس وقت کی مشکلات ایسی تھیں کہ اُن کی تاب نہ لا کر حضرت خدیجہ اور آپ کے چچا حضرت ابو طالب فوت ہو گئے جس کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید صدمہ ہوا۔پھر وہ کیسا خطرناک وقت تھا جب آپ کی کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنی پڑی۔پھر جنگِ بدر کا وقت کیسا خطر ناک تھا۔جنگِ اُحد کا وقت کیسا خطر ناک تھا۔جنگ احزاب کا وقت کیسا خطر ناک تھا۔پھر وہ کیسا خطر ناک وقت تھا جب رومی فوج مسلمانوں کے مقابلہ میں کھڑی ہو گئی۔پھر ارتداد کا وقت آیا تو وہ کیسا خطر ناک تھا۔غرض ہر وقت ایسا تھا جب لوگوں نے یہ سمجھا کہ اب یہ جماعت ختم ہوگئی مگر خدا تعالیٰ نے ہر خطرہ کے بعد اسلام کو اور زیادہ عروج بخشا۔اس طرح جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوئی فرما یا تو آپ کو ماننے والے صرف چند آدمی تھے مگر اس کے بعد آتھم کے ساتھ آپ کا مقابلہ ہوا تو لوگوں پر ایک ابتلا آیا اور انہوں نے سمجھا کہ آپ کی پیشگوئی اپنے ظاہری الفاظ کے لحاظ سے پوری نہیں ہوئی۔پھر لیکھر ام سے آپ کا مقابلہ ہوا تو گو آپ کی پیشگوئی نہایت شان سے پوری ہوئی مگر ہندوؤں میں آپ کے خلاف جوش پیدا ہو گیا اور انہوں نے آپ کی سخت مخالفت شروع کر دی۔اسی طرح مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے فتووں کا وقت آیا تو جماعت پر ایک ابتلاء آیا۔پھر ڈاکٹر عبد الحکیم کے ارتداد کا وقت آیا تو جماعت پر ابتلاء آیا۔غرض مختلف اوقات میں ایسے زور سے شورشیں اٹھیں کہ دیکھنے والوں نے سمجھا کہ اب یہ لوگ ختم ہو گئے۔لیکن خدا تعالیٰ نے ان سب فتنوں کو مٹانے کے سامان پیدا کر دیئے اور وہ فتنے بجائے جماعت کو تباہ کرنے کے اُس کی ترقی اور عزت کا موجب بن گئے۔اسی کی طرح اب ہو رہا ہے تم دیکھ لو کہ کس کس رنگ میں جماعت کے خلاف شورشیں اٹھیں ، فساد ہوئے اور کس طرح لوگوں نے سمجھ لیا کہ اب احمدیت مٹ جائے گی۔مگر ہر بار بجائے مٹنے کے جماعت کی خدا تعالیٰ کے فضل سے پہلے سے بھی زیادہ ترقی کر گئی۔جس طرح جنگِ احزاب کے موقع پر کی منافقوں نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ مسلمانوں کو پاخانہ پھرنے کے لئے تو کوئی جگہ نہیں ملتی لیکن کچ دنیا میں پھیلنے اور اس کو فتح کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔اسی طرح ہمارے متعلق بھی بعض کی ایسے لوگوں نے جن کو طعنے دینے میں مزا آ سکتا تھا عجیب وغریب باتیں پھیلائیں اور انہوں نے ہمیں طعنے دینے شروع کر دیئے۔مگر آخر انہیں شرمندہ ہونا پڑا اور جماعت کو پہلے سے بھی زیادہ کی