خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 297

1952 297 (34) خطبات محمود اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ تم اپنے فرائض کو پوری طرح ادا کرو اور قربانیوں میں استقلال دکھلاؤ فرموده 17 اکتوبر 1952ء بمقام ربوہ ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ کی سنت پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں ہمیشہ ہی اتار چڑھاؤ کے زمانے آتے رہتے ہیں۔خصوصاً الہی جماعتوں کی ابتدا میں ایسے زمانے کثرت سے آتے ہیں اور بعض دفعہ تو ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں کہ دنیا سمجھتی ہے یہ جماعت ختم ہوگئی لیکن پھر خدا تعالیٰ کی کی طرف سے اُن فتنوں کو مٹانے کے سامان پیدا ہو جاتے ہیں اور لوگ حیران رہ جاتے ہیں کہ یہ لوگ تو تباہی کے گڑھے پر کھڑے تھے مگر اب تو بالکل امن کی حالت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ہماری جماعت کی ساری تاریخ اس بات پر شاہد ہے بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی ساری تاریخ بھی اس پر شاہد ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دعوی نبوت فرمایا تو مخالفت کے لحاظ سے وہ وقت کیسا خطر ناک تھا۔پھر جب صحابہ کی جماعت بڑھنی شروع ہوئی اور نبوت کے چوتھے سال ہجرت حبشہ ہوئی تو وہ کیسا خطرناک وقت تھا۔پھر وہ کیسا خطر ناک وقت تھا جب مدینہ کی طرف ہجرت اولی ہوئی جس میں کچھ صحابہ مکہ کے مشرکین کے ظلم وستم سے تنگ آکر مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے۔می پھر وہ کیسا خطر ناک وقت تھا جب آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو مکہ کی ایک چھوٹی سی وادی میں