خطبات محمود (جلد 33) — Page 294
1952 294 خطبات محمود سے زیادہ عالم ہے ، وہ سننے والا ہے، وہ جاننے والا ہے، وہ مُحِيطٌ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ ہے۔اس کی نظر اربوں ارب ذرات جو دنیا میں ہیں اُن کے اربویں حصہ تک بلکہ اس سے آگے اربویں کی حصہ پھر اس کے اربویں حصہ تک ایک سیکنڈ میں بلکہ اس کے اربویں حصہ میں بلا تعیین پہنچ جاتی ہے۔ہر چیز اس کے حسن کہنے سے بن جاتی ہے۔ربوہ میں صرف 2300 مکانات بننے ہیں لیکن تین سالوں میں ہم سے یہ 2300 مکانات نہیں بن سکے۔پھر ربوہ ضلع جھنگ کے مقابلہ میں کتنا چھوٹا ہے۔ضلع جھنگ مغربی پنجاب کے مقابلہ میں کتنا چھوٹا ہے۔مغربی پنجاب مغربی پاکستان کے مقابلہ میں کتنا چھوٹا ہے۔مغربی پاکستان ، پاکستان کی کے مقابلہ میں کتنا چھوٹا ہے۔پاکستان ہندوستان کے مقابلہ میں کتنا چھوٹا ہے۔ہندوستان ایشیا کے مقابلہ میں کتنا چھوٹا ہے۔ایشیا د نیا کے مقابلہ میں کتنا چھوٹا ہے۔پھر یہ دنیا عالم شمسی کے مقابلہ میں کتنی چھوٹی ہے۔یہ زمین عالم شمسی کے مقابلہ میں بالکل ایسی ہے جیسے کہ ایک بڑے باغ میں کوئی مالٹا رکھا ہو۔مثلاً شالا مار باغ میں کوئی مالٹا یا بیر پڑا ہو تو اُس بیر یا مالٹے کی جو حیثیت شالا مار کے مقابلہ میں ہے اس زمین کی عالم شمسی کے سامنے اتنی حیثیت بھی نہیں۔پھر عالم شمسی یعنی سورج کے ساتھ جو سیارے وغیرہ ہیں ان کی حیثیت قطب ستارے کے نظام کے مقابلہ میں اتنی بھی نہیں جتنی ایک بیر کی حیثیت باغ کے مقابلہ میں یا ایک مکھی کی حیثیت شہر کے مقابلہ میں ہوتی ہے۔پھر قطب ستارے کے ساتھ جو دنیا ہے اس کی حیثیت معلوم دنیا کے مقابلہ میں (جو کی معلوم نہیں اس کا تو ذکر ہی کیا اتنی بھی نہیں جتنی ایک مکھی کی شہر کے مقابلہ میں۔اگر تم اس کا اندازہ لگا نا شروع کرو کہ عالم خلق کے مقابلہ میں مکھی کی کیا حیثیت ہے پھر اس عالم خلق کے مقابلہ میں انسان جو ایک خورد بینی ذرے کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ وہ اس کے مقابلہ میں اس خورد بینی ذرے کے اربویں حصہ تو کیا اس کے اربویں حصہ کے اربویں حصہ کی حیثیت رکھتا ہے کی اس کی اس دنیا میں کیا حیثیت ہے۔جتنا نظامِ عالم نظر آتا ہے اس کے مقابلہ میں ایک ذرہ کی کو رکھو۔اس ذرہ کی اس عالم کے مقابلہ میں جو حیثیت ہے انسان کی ساری کائنات کے مقابلہ میں اس سے بھی کم حیثیت ہے۔اس انسان کو پیدا کرنے کا خیال خدا تعالیٰ کو کیوں آیا ؟ وہ انسان کی جو کہتا ہے کہ مکہ ماروں تو تمہارے دانت نکال دوں فرشتوں کے نزدیک اس کی حیثیت ایک چیونٹی کے پنجے کی طرح ہے۔جس طرح چیونٹی (اگر اسے زبان مل جائے ) کہے کہ میں لات مار کر کی۔