خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 261

1952 261 خطبات محمود بعض دفعہ بات کر لی جاتی ہے اور سننے والے کا ذہن اس طرف نہیں جاتا اس لئے اس کا بُرا اثر کی نہیں پڑتا۔لیکن اُس وقت درباروں میں علماء کی کثرت ہوتی تھی۔اُن سب کا ذہن اسی طرف گیا کہ انجب “ کے معنی لونڈی زادے کے ہیں اس لئے اس شخص نے بجائے تعریف کے بادشاہ کی مذمت کی ہے۔انشاء اللہ خاں انشاء کی زبان سے انجب “ کا لفظ سن کر مجلس پر سناٹا چھا گیا۔اگر بات جاری رہتی تو کوئی بات نہیں تھی لیکن اس خاموشی نے اس بات کو واضح کر دیا کہ انجب “ کے دوسرے معنی جو لونڈی زادے کے ہیں وہی استعمال کئے گئے ہیں۔بادشاہ بھی سمجھ گیا کہ مجھے بھرے دربار میں لونڈی زادہ کہہ کر میری ہتک کی گئی ہے۔چنانچہ اُس کے بعد اس کی نے انشاء اللہ خان انشاء کو گرا نا شروع کیا اور آخر رفتہ رفتہ اسے بالکل تباہ کر دیا۔تو بعض طبائع مذاق میں ایک حد تک رُک جاتی ہیں آگے نہیں جاتیں۔لیکن بعض طبائع آگے نکل جاتی ہیں۔اگر اس قسم کی باتیں برسر عام کی جائیں تو بعض لوگ حد سے گزر جاتے ہیں کیونکہ انہیں اپنی طبیعت پر قابو نہیں ہوتا۔وہ آگے بڑھ جاتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں وہی مذاق جو شریعت کے لحاظ سے جائز تھا چھپتی اور تمسخر بن جاتا ہے اور دوسرے کے لئے ہتک کا موجب بن جاتا ہے۔اس لئے شریعت نے بعض جائز چیزوں سے بھی روکا ہے۔مثلاً ہر مسلمان جانتا ہے کہ بیوی سے پیار کرنا جائز ہے لیکن کیا شریعت نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ بیوی۔برسر عام پیار کیا جائے؟ ہر گز نہیں۔قرآن کریم کہتا ہے کہ جب تم میاں بیوی اکٹھے ہوتے ہو، جب تم دونوں بے تکلفی سے لیٹتے ہو اور کپڑے اُتار دیتے ہو تو تمہارا اپنا بچہ بھی اُس کمرہ میں بے۔داخل نہ ہو 5 حالانکہ ہر شخص جانتا ہے کہ یہ بات جائز ہے لیکن اسلام نے اس کے ظاہر کرنے سے منع کیا ہے۔اس لئے کہ بچہ میں یہ تمیز نہیں ہوتی کہ فلاں بات جائز ہے یا نا جائز۔وہ جب اپنے والدین کو آپس میں پیار کرتے دیکھے گا تو وہ حد سے گزر جائے گا جو جائز نہیں ہوگا۔پرائیویٹ مجالس میں ایک دوست دوست سے مذاق کرتا ہی ہے اور ایسی مجالس منعقد ہی اس لئے کی جاتی ہیں کہ خوش طبعی کا سامان ہو لیکن اگر یہی مجالس بازاروں میں کی جائیں تو لازمی امر ہے کہ اسے بعض اس قسم کے لوگ بھی دیکھیں گے جو اس کے اہل نہیں ہوں گے کہ وہ سمجھ سکیں کہ مذاق اور خوش طبعی کی حد کیا ہے۔وہ آپ کو دیکھ کر ایسے مذاق کرنے لگ جائیں گے جو نا جائز ہوں گے۔مثلاً ایک بچہ اگر اپنے ماں باپ کو آپس میں پیار کرتا دیکھ لے گا تو وہ اُسے ایک عام چیز خیال کرے گا اور