خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 260

1952 260 خطبات محمود ہیں۔حضرت علی سمجھ گئے کہ یہ مذاق ہے جو ان سے کیا گیا ہے۔اب میری خوبی یہ ہے کہ میں بھی کی اس کا جواب مذاق میں دوں۔آپ نے فرمایا، آپ سب گٹھلیاں بھی کھا گئے ہیں لیکن میں گٹھلیاں رکھتا رہا ہوں۔اور ثبوت اس کا یہ ہے کہ کٹھلیوں کا ڈھیر میرے سامنے پڑا ہے۔صحابہ پر یہ مذاق اُلٹ پڑا۔پس اس قسم کی باتیں اپنی مجالس میں کی جاسکتی ہیں۔خوش طبعی سے اسلام روکتا نہیں۔لیکن اگر ایسی باتیں بازاروں میں کی جائیں تو کئی لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے اخلاق بلند نہیں ہوتے ، وہ مذاق بگاڑ کر کریں گے اور اگلا آدمی اور بگاڑے گا۔یعنی یہ مذاق کی بڑھتا جائے گا اور لڑائی جھگڑے پر منتج ہو گا۔اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کی کہ تم ایسی مجالس بازاروں میں نہ کیا کرو۔کیونکہ تم یہ نہیں سمجھ سکتے کہ کون سا شخص اس قابل ہے کہ تم اُس سے مذاق کرو۔اور کون سا شخص تمہارے مذاق کو سمجھے گا نہیں۔بعض دفعہ انسان کسی شخص سے ایسا مذاق کر لیتا ہے جو جائز ہوتا ہے لیکن اس کا نتیجہ صحیح نہیں نکلتا سننے والے اس سے اور نتیجہ نکال لیتے ہیں۔انشاء اللہ خاں انشاء ایک مشہور شاعر گزرے ہیں۔بادشاہ اُن سے دوستانہ رنگ میں سلوک کی کرتا تھا۔دربار میں مذاق کی بات ہوتی تو دوسرے لوگ اپنی طبیعت کو قابو میں رکھتے تھے لیکن ج ނ انشاء اللہ خاں انشاء اپنی طبیعت کو قابو میں نہیں رکھ سکتے تھے۔اس کا نتیجہ یہ تھا کہ وہ جلدی مذاق کا جواب دینے کی کوشش کرتے تھے اور یہ خیال نہیں کرتے تھے کہ جواب مناسب حال ہو اور مناسب الفاظ استعمال کئے جائیں۔اتفاق سے بادشاہ لونڈی زادہ تھا۔درباروں میں لوگ بادشاہوں کی خوشامدیں کرتے ہی ہیں۔کسی شخص نے کہا فلاں شخص نجیب ہے۔اس پر کسی درباری نے کہا ہمارے بادشاہ کیا کم نجیب ہیں؟ انشاء اللہ خاں انشاء کو یہ عادت تھی کہ وہ چھلانگ مار کر کے آگے نکل جانا چاہتے تھے۔انہوں نے کہا ہمارے بادشاہ سب سے زیادہ شریف ہیں اور اس کے لئے عربی کا لفظ انجب“ استعمال کیا جو نجیب‘ کا اسم تفضیل ہے اور اس کے عام معنی ”سب سے بڑے شریف کے ہیں۔اور انشاء اللہ خاں انشاء نے اِن معنوں کے لحاظ سے ہی بادشاہ کو کی انجب“ کہا تھا لیکن بدقسمتی سے بادشاہ لونڈی زادہ تھا اور اس لفظ کے دوسرے معنی لونڈی زادے کے بھی ہیں۔عربی میں یہ لفظ لونڈی زادے کے لئے بطور طنز استعمال کیا جاتا ہے۔عرب میں لونڈی زادے کو شریف خیال نہیں کیا جاتا تھا اس لئے طنز ا ا اسے اَنْجَبْ “ کہا جاتا تھا۔