خطبات محمود (جلد 33) — Page 185
1952 185 خطبات محمود پس ان دنوں میں دعائیں کرو۔نوجوان اپنے اندر یہ روح پیدا کریں کہ خدا تعالیٰ کا زندہ کی تعلق حاصل ہو جائے۔پہلے اگر ایک شخص جاتا تھا جسے خدا تعالیٰ سے تعلق ہوتا تھا تو اُس کی جگہ کئی اور پیدا ہو جاتے تھے۔تھے۔بجائے اس کے کہ تم یہ کہو کہ اب ایسا کوئی شخص نہیں جس کا تعلق خدا تعالیٰ سے ہو یا جسے الہام ہوتا ہو تم خود کوشش کرو کہ اگر ایک ایسا شخص مرجائے تو 20 اور ایسے آدمی پیدا ہو جائیں۔اور اگر 20 آدمی مر جائیں تو 200 اور ایسے آدمی پیدا ہو جا ئیں۔اگر 200 آدمی مر جائیں تو 20 ہزار اور ایسے آدمی پیدا ہو جائیں۔یہ چیز ہے جو تمہارے حوصلوں کو بڑھائے گی اور دنیا کو مایوس کر دینے والی ہوگی۔دنیا مادی ہتھیاروں کی طرف دیکھتی ہے۔اگر ہزاروں لوگ کی ایسے پیدا ہو جائیں جو خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہونے والے ہوں۔خدا تعالیٰ کے نشانات دیکھنے کی والے ہوں ، خدا تعالیٰ پر یقین رکھنے والے ہوں اور اس کا ظہور اپنی ذات میں محسوس کرنے کی والے ہوں تو دوسرے لوگ خود بخود مایوس ہو جائیں گے۔کیونکہ دوسرے لوگ قصے سناتے ہیں اور یہ لوگ آپ بیتی سنائیں گے۔اور جگ بیتی آپ بیتی جیسی نہیں ہوتی۔جب ہزاروں کی تعداد کی میں ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے جن کا خدا تعالیٰ سے تعلق ہو گا تو جگ بیتی بھاگ جائے گی اور آپ بیتی غالب آجائے گی کیونکہ سنی سنائی بات دیکھی ہوئی بات پر غالب نہیں آسکتی۔“ ( الفضل 8 جولائی 1952ء)