خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 111

1952 111 خطبات محمود 02 استاد باتیں کرتے رہتے ہیں اور پڑھائی رہ جاتی ہے۔اس کے بعد میں نے اساتذہ کو بلایا اور کی ان سے دریافت کیا تو میری حیرت کی کوئی انتہاء نہ رہی جب میں نے یہ دیکھا کہ بعض اساتذہ کی نے آگے بڑھ بڑھ کر یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ ٹھیک ہے۔اِدھر اُدھر کی باتیں کرنی بھی ضروری جی ہوتی ہیں اور اس طرح اتنا ہی پڑھایا جا سکتا تھا زیادہ نہیں پڑھایا جا سکتا تھا۔گویا بجائے اس کے کہ وہ اپنے فعل پر پردہ ڈالتے اُنہوں نے بڑی عمدگی اور دلیری سے تسلیم کیا کہ ادھر اُدھر کی باتیں بھی ہوتی ہیں اور اس طرح اصل پڑھائی رہ جاتی ہے۔حالانکہ استاد کا نہ صرف یہ کام ہے کہ وہ اپنے کورس کو پورا کرے بلکہ اُس کا یہ بھی کام ہے کہ وہ زائد سٹڈی کروائے۔کوئی طالب علم صحیح طور پر تعلیم حاصل نہیں کر سکتا جب تک اُس کا مطالعہ اس قدر وسیع نہ ہو کہ وہ اگر ایک کتاب مدرسہ کی پڑھتا ہو تو دس کتابیں باہر کی پڑھتا ہو۔باہر کا علم ہی اصل علم ہوتا ہے۔استاد کا پڑھایا ہوا علم صرف علم کے حصول کے لئے مُمد ہوتا ہے، سہارا ہوتا ہے۔یہ نہیں ہوتا کہ اس کے ذریعہ وہ سارے علوم پر حاوی ہو سکے۔دنیا میں کوئی ڈاکٹر ، ڈاکٹر نہیں بن سکتا اگر وہ اتنی ہی کتابیں پڑھنے را اکتفاء کرے جتنی اُسے کالج میں پڑھائی جاتی ہیں۔دنیا میں کوئی وکیل ، وکیل نہیں بن سکتا اگر وہ صرف اتنی کتابوں پر ہی انحصار رکھے جتنی اُسے کالج میں پڑھائی جاتی ہیں۔دنیا میں کوئی مبلغ مبلغ نہیں بن سکتا اگر وہ صرف اُنہی کتابوں تک اپنے علم کو حد و در کھے جو اُ سے مدرسہ میں پڑھائی جاتی تج ہیں۔وہی ڈاکٹر ، وہی وکیل اور وہی مبلغ کامیاب ہو سکتا ہے جو رات اور دن اپنے فن کی کتابوں کی کا مطالعہ رکھتا ہے اور ہمیشہ اپنے علم کو بڑھاتا رہتا ہے۔پس جب تک ریسرچ ورک کے طور پر نئی چی نئی کتابوں کا مطالعہ نہ رکھا جائے اُس وقت تک لڑکوں کی تعلیمی حالت ترقی نہیں کر سکتی۔مجھے تعجب آتا ہے کہ آجکل دینیات کے مدرس بھی انگریزی سکولوں اور کالجوں کی نقل میں تعلیم کے لئے پانچ پانچ اور چھ چھ گھنٹے کے الفاظ استعمال کرنے لگ گئے ہیں۔حالانکہ ہمارے پرانے اساتذہ جو د مینیات پڑھایا کرتے تھے وہ دس دس بارہ بارہ گھنٹے پڑھاتے چلے جاتے تھے۔لیکن اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ وہ پانچ چھ گھنٹے مسلسل پڑھاتے ہیں تب بھی تربیت کے لئے ان کے پاس بڑا کافی وقت بچ سکتا ہے۔کیونکہ انکی کتا میں ایسی ہوتی ہیں جنہیں بار بار بدلا نہیں جاتا۔سکولوں اور کالجوں کا کورس اکثر بدلتا رہتا ہے۔کبھی کہا جاتا ہے فلاں مصنف کی کتابیں پڑھاؤ کی اور کبھی کہا جاتا ہے فلاں کی۔لیکن دینیات کا اکثر کورس ایسا ہوتا ہے جس کو ہم بدل ہی نہیں سکتے۔