خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 110

1952 110 خطبات محمود نابینا ہیں۔جھگڑوں کے وقت بڑی آسانی سے پتا لگ جاتا ہے کہ کون سچ بولنے کا عادی ہے اور کی کون جھوٹ بولتا ہے۔مگر مشکل یہ ہے کہ بعض اساتذہ بھی جنبہ داری سے کام لیتے ہیں۔اس کا کی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لڑکے جن کے وہ طرفدار ہوتے ہیں وہ جھوٹ بھی بولتے ہیں تو انہیں سچ کی معلوم ہوتا ہے۔اور جن کے خلاف ان کی رائے ہوتی ہے وہ سچ بھی بولتے ہیں تو انہیں جھوٹ نظر آتا ہے۔پس یہ ان کا ذاتی نقص ہے کیونکہ جنبہ داری کا مرض انسان کو نا بینا بنا دیتا ہے۔استاد کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اُس کا کسی کے ساتھ کوئی خاص جوڑ نہ ہو۔چاہے کوئی اُس کا بھائی ہو، عزیز ہو، اس کے دوست کا بیٹا ہو سب کو ایک نگاہ سے دیکھے۔اگر وہ سب کو ایک نگاہ سے دیکھے گا تو اُس کی نظر تیز ہو جائے گی اور وہ آسانی سے پتا لگالے گا کہ فلاں میں غفلت کی عادت ہے، فلاں میں جھوٹ کی عادت ہے ، فلاں میں بددیانتی کی عادت ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کی ذمہ داری ایک حد تک ماں باپ پر بھی ہے۔ان کا بھی فرض ہے کہ اپنے لڑکوں کی تربیت کے سلسلہ میں اساتذہ سے تعاون کریں۔یورپ میں تو یہ طریق ہے جی کہ جب کوئی زیادہ بیمار ہو جائے تو اُس کا معالج ڈاکٹر کہتا ہے کہ اب فلاں ڈاکٹر سے مل کر مشورہ کی کرتا ہوں تا کہ بیمار کے لئے مناسب علاج تجویز کیا جا سکے۔اسی طرح اساتذہ کا فرض ہے کہ جب وہ دیکھیں کہ ان کی کوششیں کامیاب نہیں ہو رہیں تو وہ اُن کے ماں باپ سے مشورہ کریں تی اور ان کی اصلاح کی تدابیر سوچیں۔مگر یہ طریق صرف اُن لڑکوں کے متعلق اختیار کیا جاسکتا ہے جو بورڈنگ میں نہیں رہتے۔جولڑ کے بورڈنگ میں رہتے ہیں ان کی تو سو فیصدی ذمہ داری اساتذہ اور نگران عملہ پر ہی عائد ہوتی ہے۔یہی ضرورت میں سمجھتا ہوں دینیات کے مدارس میں بھی ہے وہاں بھی یہی غفلت پائی جاتی ہے۔لڑکے تعلیم پارہے ہوتے ہیں اور ہم یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ میں مبلغ تیار ہو جائیں گے۔مگر ہوتا یہ ہے کہ ہمیں بے دین یا نہیں سکتے یا ہیں ناکارہ یا ہیں جاہل پیدا ہو جاتے ہیں۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ مدرسہ احمدیہ کے متعلق مجھے شکایت پہنچی کہ فلاں فلاں علوم مدرسہ میں پڑھائے جاتے ہیں۔مگر اساتذہ نے ابھی کورس کی کتابوں کے صرف چند صفحات ہی پڑھائے ہیں اور سال ختم ہو گیا ہے۔مثلاً اگر سوصفحہ کتاب کا تھا تو اساتذہ نے سارے سال میں صرف دس ہیں صفحے پڑھائے تھے۔میں نے لڑکوں کو بلایا اور ان سے باتیں کیں۔انہوں نے کہا بات ٹھیک ہے۔