خطبات محمود (جلد 33) — Page 100
1952 100 خطبات محمود میں مر گیا اُس وقت بھی وہ اپنی زندگی کسی مفید کام میں صرف نہیں کرتا۔اصل اور صحیح طریقہ یہی کچ ہے کہ انسان سمجھے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں کام کرنے کے لئے بھیجا ہے۔جتنا بھی کام کرلوں وہی میری زندگی کا مقصد اور وہی اس کا ماحصل ہے۔پس انسان کو ہر تنگی ، ترشی ، مصیبت ، آرام، خوشی اور رنج میں اپنے خیالات صرف اس طرف لگائے رکھنے چاہئیں کہ اگر میرے خاندان میں کوئی کمی ہے یا میری قربانیوں میں کوئی کمی رہ گئی ہے تو اُس کو پورا کروں تا کہ میری موت کا وقت میرے لئے رنج کا موجب نہ ہو بلکہ خوشی کا موجب ہو۔کسی شاعر نے عربی زبان کی میں کہا ہے انْتَ الَّذِي وَلَدَتْكَ أُمُّكَ بَاكِياً وَ النَّاسُ حَوْلَكَ يَضْحَكُونَ سُرُورًا 3 تو وہ شخص ہے کہ تیری ماں نے تجھے اس حالت میں جنا تھا کہ تو رورہا تھا۔بچہ پیدا ہوتا ہے روتا ہے۔پس وہ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تو وہ ہے کہ ماں نے جب تجھے ؟ تھا تو تو روتا تھا۔وَ النَّاسُ حَوْلَكَ يَضْحَكُونَ سُرُوْرًا لیکن لوگ تیرے ارد گرد بیٹھے خوشی سے ہنس رہے تھے کہ بیٹا ہو گیا، بیٹا ہو گیا۔گویا تو تو روتا تھا مگر تیرے رونے پر انہیں رنج نہیں تھا بلکہ وہ خوش تھے اور ہنس رہے تھے۔تو رور ہا تھا کہ میں تکلیف سے اور ایک دردناک طبعی آپریشن کے ساتھ جنا گیا ہوں اور وہ خوش ہو رہے تھے کہ ہمارے خاندان میں ایک بیٹا آ گیا۔فَاخْرِصُ عَلَى عَمَلٍ تَكُونُ إِذَا بَكَوا فِي وَقْتِ مَوْتِكَ ضَاحِكاً مَسْرُورًا 4 پس تو اس بات کو دیکھ کر آب پکا عزم اور ارادہ کر لے کہ میں اب دنیا میں ایسے اعمال کروں گا کہ میری موت پر اور لوگ تو رور ہے ہوں گے اور میں ہنس رہا ہوں گا۔لوگ روتے ہوں کہ اتنی خدمت کرنے والا اور اتنے کام کرنے والا مر رہا ہے اب ہم کیا کریں گے اور تو خوش ہو رہا ہو کہ ان کاموں کے بعد اب میں خدا کے پاس جا رہا ہوں جو نہ معلوم مجھے کیا کچھ انعام دے گا۔