خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 99

1952 99 (13) خطبات محمود ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ اسلام کی اشاعت اور ترقی کے لئے رات اور دن کام کرتی چلی جائے فرمودہ 25 اپریل 1952ء بمقام ربوہ ) تشهد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: وو مجھے چار دن سے لمبے گو (LUMBAGO)1 اور شیاٹیکا (SCIATICA) کی کمی تکلیف ہے۔ہمارے ہاں پنجابی میں لمبے گو کوچک پڑنا یا نکلنا کہتے ہیں۔اس میں انسان صرف کی ایک طرف جھک کے کھڑا ہو سکتا ہے اور وہ بھی تکلیف سے۔آج سے کسی قدرجسم سیدھا تو ہونے لگ گیا ہے لیکن ابھی حرکت میرے لئے تکلیف دہ ہے۔اسی وجہ سے میں کھڑے ہو کر خطبہ نہیں کر رہا بلکہ بیٹھ کر خطبہ کر رہا ہوں۔انسانی زندگی اگر اس سے انسان صحیح طور پر فائدہ اٹھا نا چاہے تو وہ صرف عمل کا نام ہے۔دنیا میں یہ ایک قطعی اور یقینی چیز ہے کہ انسان آتا ہے اور فوت ہو جاتا ہے۔لیکن شاید پچاس ساٹھ سال کی عمر تک تو انسان خیال بھی نہیں کرتے کہ انہوں نے مرنا ہے۔اور اس کے بعد کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ زندہ ہی مر جاتے ہیں۔یعنی ہر وقت مرنے کا ہی سوچتے رہتے ہیں۔گویا بیشتر حصہ انسانوں کا ایسا ہے کہ ایک وقت تک تو وہ سمجھتا ہے کہ مرنا ہی نہیں اور دوسرے وقت سمجھتا ہے کہ میں مر چکا ہوں۔اِس طرح اُس کی دونوں زندگیاں بیکار چلی جاتی ہیں۔جب وہ سمجھتا ہے کہ میں نے مرنا نہیں اُس وقت بھی وہ اپنی زندگی کسی مفید کام میں نہیں لگاتا۔اور جب وہ سمجھتا ہے کہ