خطبات محمود (جلد 32) — Page 80
$1951 80 خطبات محمود وہ قادیان میں آنے والوں کو ہمیشہ ورغلاتے رہتے تھے اور کہا کرتے تھے دیکھو! میں مرزا صاحب کا قریبی رشتہ دار ہوں میں بھی انہیں نہیں مانتا۔مرزا صاحب نے دکان بنا رکھی ہے۔صرف دکان۔مرزا علی شیر صاحب تسبیح خوب پھیرا کرتے تھے۔مجھے خوب یاد ہے کہ منکے پر منکا چلتا تھا۔انہیں باغبانی کا شوق تھا اس لیے انہوں نے ایک باغیچہ لگایا ہوا تھا جس میں وہ سارا دن کام کرتے رہتے تھے۔جہاں آجکل قادیان میں دُور الضعفاء ہیں وہاں اُن کا باغیچہ تھا۔درختوں سے انہیں عشق تھا۔اس لیے جو نہی کسی نے کسی درخت کو چھوا تو انہیں غصہ آیا اور وہ اُس کے پیچھے بھاگ پڑے۔بچے شرارتیں کرتے ہیں۔ہم تو بہت احتیاط کرتے تھے کیونکہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے شدید مخالف تھے لیکن دوسرے بچے انہیں چھیڑا کرتے تھے۔مثلاً کوئی بیدانہ 5 کا درخت ہے تو بچوں نے پتھر مارنا اور اس طرح بیدا نہ اُتار کر کھانا۔ماموں علی شیر صاحب نے جب بچوں کو پتھر مارتے دیکھنا تو اُن کے پیچھے بھاگنا اور گالیاں دیناسور، بدمعاش ! لیکن تسبیح کے منکے برابر چلتے جاتے تھے۔ہم اُس وقت بھی حیران ہوتے تھے کہ انہوں نے تو تسبیح پر سود فعہ خدا تعالیٰ کا نام لینا تھا لیکن اس میں سے پچاس دفعہ تو انہوں نے سو ر اور بدمعاش کہہ دیا ہے۔اب انہوں نے یہ طریق اختیار کیا ہوا تھا لیکن اس کے یہ معنے نہیں کہ اصل ذکر الہی بھی چھوڑ دیا جائے۔ہمارے ہاں ذکر الہی کا رواج نہیں۔مسجد میں جاؤ تو وہاں آپس میں یہ گفتگو شروع ہوتی ہے کہ سنا ہے آپ نے بھینس خریدی ہے؟ کیسی ہے؟ کتنے کو لی؟ فلاں جگہ آپ نے جانا تھا گئے نہیں؟ آپ کی ترقی کے معاملہ کا کیا بنا؟ وغیرہ وغیرہ۔مسجدوں میں خدا تعالیٰ کا نام لو، مالک کا نام لو اور اُس کی مالکیت کو ذہن میں لاؤ، قدوس کا نام لو اور اُس کی قدوسیت کو ذہن میں لاؤ ، ستار کا نام لو اور اُس کی ستاریت کو ذہن میں لاؤ، غفور کا نام لو اور اُس کی غفوریت کو ذہن میں لاؤ، غفار کا نام لو اور اس کی غفاریت کو ذہن میں لاؤ۔جب تم تصویر ہی نہیں کھینچو گے تو خدا تعالیٰ کی محبت کس طرح پیدا ہوگی؟ محبت کے لیے ضروری ہے کہ یا تو کسی کا وجود سامنے ہو اور یا اس کی تصویر سامنے ہو۔مثلاً اسلام نے یہ کہا ہے کہ جب تم شادی کرو تو شکل دیکھ لو 6 اور جہاں شکل دیکھنی مشکل ہو وہاں تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔میری جب شادی ہوئی میری عمر چھوٹی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ڈاکٹر رشید الدین صاحب کو لکھا کہ لڑکی کی تصویر بھیج دیں۔انہوں نے تصویر بھیج دی اور