خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 79

$1951 79 خطبات محمود کثرت سے بولتے اور سنتے ہیں وہ ہمارے دماغ میں براہِ راست داخل ہو جاتے ہیں۔لیکن وہی معنے ہمارے دماغ میں داخل ہوں گے جن میں وہ ہماری زبان میں استعمال ہوتے ہیں۔لیکن جن معنوں میں وہ ہماری زبان میں استعمال نہیں ہوتے وہ چاہے کوئی ماہر زبان ہی کیوں نہ ہو تر جمہ ہو کر اس کے دماغ میں داخل ہوں گے۔یہ محنت طلب بات ہے۔خالی ربّ ، مالک، رحمان، رحیم کہنے سے اُس وقت تک کوئی فائدہ نہیں ہوتا جب تک تم ترجمہ کر کے اسے ذہن میں دہراؤ گے نہیں کہ اس کے یہ معنے ہیں۔جب تم انہیں بار باردہراؤ گے تو وہ دماغ کی فلم پر آجائیں گے اور ایک لفظ بار بار دماغ میں آنے کے بعد تصویر کا ایک حصہ بن جائے گا۔پھر متعدد الفاظ سے خدا تعالیٰ کی ایک تصویر بن جائے گی اور پھر اُس تصویر سے خدا تعالیٰ کا وجود سمجھ لیا جائے گا۔خدا تعالیٰ کی کوئی صفت روحانی ماتھا بنادے گی ، کوئی صفت روحانی کان بنادے گی، کوئی صفت روحانی آنکھ بنا دے گی اور اس طرح ایک تصویر بن جائے گی۔بہر حال خدا تعالیٰ کی تصویر روحانی طور پر سامنے آئے گی جس سے تم یہ سمجھو گے کہ خدا تعالیٰ ایک حسین چیز ہے۔اور جب تم یہ سمجھو گے کہ خدا تعالیٰ ایک حسین چیز ہے تو اس کی محبت خود بخود پیدا ہو جائے گی۔اسی چیز کا نام ذکر الہی ہے۔اس کا رواج ہماری جماعت میں نہیں دوسرے لوگوں میں اس کا رواج ہے۔مثلاً پیروں اور فقیروں کی جماعتوں میں اس کا رواج عام طور پر پایا جاتا ہے لیکن انہوں نے اسے ایک کھیل بنا دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام ایک پیر کا واقعہ سنایا کرتے تھے۔وہ پیر شکار کا بہت شوقین تھا۔وہ ایک دن گھوڑے پر سوار ہو کر شکار کے لیے گیا اور بڑی کوشش کے بعد اس نے ایک ہرن مارا۔جب اس ہرن کو تیر لگا تو وہ تیز دوڑا۔پیر صاحب نے اس کے پیچھے گھوڑا دوڑایا۔آخر بڑی محنت کے بعد اسے پکڑنے میں کامیاب ہوئے۔پیر صاحب کو غصہ تھا کہ میرا گھوڑا بہت تھک گیا ہے۔وہ جب ہرن کو ذبح کرنے لگے تو اپنے خیال میں وہ تکبیر کہہ رہے تھے لیکن کہہ یہ رہے تھے سو را ! تو نے میرا گھوڑا مار دیتا ، سو را! تو نے میرا گھوڑا مار دیتا۔اس کا نام انہوں نے ذکر الہی رکھ لیا تھا حالانکہ وہ لفظوں میں بھی نہیں ہور ہا تھا لیکن اُن کی تسبیح چلی جارہی تھی۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ سنایا ہے کہ ہمارے ماموں مرزا علی شیر صاحب تھے۔وہ ہماری سوتیلی والدہ کے بھائی تھے۔شاید میاں عزیز احمد صاحب کی دادی کے حقیقی بھائی یا قریبی رشتہ دار تھے۔