خطبات محمود (جلد 32) — Page 76
$1951 76 خطبات محمود کرے گا لیکن دل کو یہ کہے گا کہ اس کے خریدنے کا ارادہ نہ کرنا اور آہستہ آہستہ وہ دل سے اس کے خریدنے کا خیال نکال دے گا۔بہر حال وہ یہ تو کہ سکتا ہے کہ یہ قیمت میری طاقت سے بالا ہے لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ چیز پسندیدہ بھی نہ ہو، وہ چیز اچھی تو بہر حال ہے۔بازار میں بے موسم پھل آتے ہیں اور وہ روپیہ دو روپیہ فی سیر ہوتے ہیں۔اس بھاؤ پر غرباء اسے خرید کر نہیں کھا سکتے۔اس لیے کہ وہ اُن کی طاقت سے بالا ہیں مگر بہر حال وہ انہیں پسند ہوتے ہیں۔وہ پسند ضرور کر لیتے ہیں۔آگے انسانوں میں بھی یہی حالات ہیں۔انسانوں میں حُسنِ صورت کے ساتھ ساتھ حسن سیرت بھی لگا رہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں محبت کا لفظ بدل دیا گیا ہے۔گو عربی میں یہ دونوں جگہ پر استعمال ہوتا ہے۔کپڑے پر بھی محبت کا لفظ بولا جائے گا، زیور پر بھی محبت کا لفظ بولا جائے گا لیکن ہمارے ملک میں یہ امتیاز پیدا کر دیا گیا ہے کہ محبت جاندار چیزوں کے لیے ہوتی ہے اور پسند کا لفظ غیر جاندار چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔جو چیز بھی حسین ہوگی اُس سے انسان کو محبت پیدا ہو جائے گی۔حسن دیکھنے کے علاوہ سننے سے بھی انسان کے اندر اثر کرتا ہے۔مثلاً پہاڑ ہے۔بعض پہاڑوں کو تو ہم دیکھ کر پسند کرتے ہیں لیکن بعض پہاڑوں کے متعلق کتابوں میں پڑھتے ہیں کہ وہاں فلاں فلاں نظارے ہیں، عمدہ چشمے ہیں اور فلاں فلاں قسم کے پھل ہیں اور اس طرح ہم انہیں پسند کرنے لگ جاتے ہیں۔کشمیر کو ہزاروں نے دیکھا ہے لیکن لاکھوں نے صرف کتابوں میں پڑھا ہے یا دوسروں کی زبانی سنا ہے کہ کشمیر بڑی اچھی جگہ ہے۔اس لیے اُن کا اسے دیکھنے کو جی چاہتا ہے۔غرض عشق آنکھوں سے بھی پیدا ہوتا ہے اور کانوں سے بھی پیدا ہوتا ہے۔پھر عشق جسم کی آنکھ سے بھی پیدا ہوتا ہے اور دل کی آنکھ سے بھی پیدا ہوتا ہے۔اب خدا تعالیٰ کی ذات ایسی ہے جو وراء الوری ہے۔اس لیے اُس کی محبت اسے ظاہری آنکھ سے دیکھ کر پیدا نہیں ہوتی۔تم دنیا میں بعض موٹی موٹی چیزیں بھی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے تم بجلی کو ظاہری آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے۔پھر وہ قو تیں جو مادہ کے پیچھے کام کر رہی ہیں مثلاً بجلی کی طاقت، انہیں بھی تم ظاہری آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے۔ان چیزوں کو اُن کی تأثیر سے معلوم کیا جاتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی ہستی وراء الورا ہے اور ظاہری آنکھ سے وہ پوشیدہ ہے۔اُسے دل کی آنکھ سے دیکھا جائے گا اور اُس کی آواز کو دل کے کان سے سنا جائے گا۔۔شریعت نے اس کے لیے یہ طریق بیان کیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے حسن کو الفاظ میں بیان کیا جائے ،