خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 65

$1951 65 59 9 خطبات محمود خدا تعالیٰ سے زیادہ کسی اور چیز سے محبت نہیں ہونی چاہیے (فرمودہ 6 اپریل 1951ء بمقام ربوہ ) تشہد ،تعوّ ذاورسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ”میں نے گزشتہ خطبہ جمعہ میں بتایا تھا کہ بعض لوگ روحانیت اور تعلق باللہ پیدا کرنے کے لیے گر پوچھا کرتے ہیں حالانکہ روحانیت اور تعلق باللہ کے معنے محبت کے ہی ہیں۔جیسے زید اور بکر میں محبت پیدا ہو جاتی ہے، ماں اور بیٹے میں محبت ہوتی ہے، باپ اور بیٹے میں محبت ہوتی ہے، بیٹی اور ماں میں محبت ہوتی ہے، بھائی بھائی میں محبت ہوتی ہے، بہن بہن میں محبت ہوتی ہے، بیٹی بیٹی یا بیٹے بیٹے میں محبت ہوتی ہے اور دوسرے رشتہ داروں میں محبت ہوتی ہے وہی جذ بہ جب انسان میں خدا تعالیٰ کے متعلق پیدا ہو جاتا ہے تو اسے تعلق باللہ کہتے ہیں۔تعلق کے معنے ہیں لٹکنا اٹکنا۔ہمارے ہاں بھی کہتے ہیں دل اٹکا ہوا ہے، دل لٹکا ہوا ہے۔اسی کا نام تعلق باللہ اور روحانیت ہے۔اور اس کا امتحان اس طرح ہو جاتا ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی خاطر قربانی کرتا ہے اور دوسرے رشتوں اور تعلقات کو اگر وہ خدا تعالیٰ کی محبت میں روک پیدا کریں تو انہیں قربان کر دیتا ہے۔دوسری محبتوں میں یہ ضروری نہیں ہوتا کہ کسی خاص شخص کی محبت کسی میں زیادہ ہو، بعض اوقات بھائی دشمنی کر جاتا ہے لیکن دوست وفا کر جاتا ہے، بیوی دھوکا کر جاتی ہے لیکن ماں وفاداری سے کام لیتی ہے، ماں دھوکا کر جاتی ہے لیکن بیوی وفادار