خطبات محمود (جلد 32) — Page 49
$1951 49 خطبات محمود سجدہ میں گر گئے۔سجدہ سے سر اٹھانے کے بعد حضور نے تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کی اور فرمایا: چونکہ مجھے نقرس کا دورہ ہے اس لیے میں خطبہ جمعہ کھڑے ہو کر نہیں پڑھا سکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ابتدا میں یہ حکم تھا کہ جب امام کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھا سکے تو مقتدی بھی بیٹھ کر نماز پڑھا کریں 1 لیکن بعد میں خدا تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت آپ نے اس حکم کو بدل دیا اور فرمایا کہ اگر امام کسی معذوری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی نہ بیٹھیں بلکہ وہ کھڑے ہو کر ہی نماز ادا کیا کریں۔2 پس چونکہ میں کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھا سکتا اس لیے میں بیٹھ کر نماز پڑھاؤں گا اور دوست کھڑے ہوکر نماز ادا کریں۔یہاں نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد ہم شورای کی جگہ پر جائیں گے۔چونکہ وہاں کمیٹیاں بنیں گی اور ان کمیٹیوں کو بہت سا کام کرنا ہو گا اس لیے نماز جمعہ اور نماز عصر اکٹھی پڑھی جائیں گی اور بعد میں شوری کا کام شروع کیا جائے گا۔یہاں جو دوست نماز جمعہ ادا کرنے آئے ہیں انہیں دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ مجلس شورای میں شریک ہونے کے لیے بیرونی جماعتوں سے نمائندگان اور مہمانوں کی ایک خاصی تعداد آئی ہے۔پھر یہاں کے مقامی لوگ بھی ہیں۔اس لیے مسجد اگر چہ بڑی ہے بلکہ قادیان کی مسجد اقصی سے بھی بڑی ہے پھر بھی بہت سے لوگ باہر کھڑے ہیں۔اس موقع پر میں پہلی نصیحت تو یہ کرنا چاہتا ہوں کہ اگر چہ اجتماعی برکت کا موجب ہوتے ہیں لیکن بعض اجتماع مختلف قسم کی خرابیوں کا موجب بھی ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ بعض اوقات میلوں کی صورت اختیار کر جاتے ہیں اور جب اجتماع میلوں کی شکل اختیار کر جاتے ہیں تو ان کی برکتیں چھن جاتی ہیں۔اس لیے باہر سے آنے والے احباب اس طرف خاص طور پر توجہ کریں اور کوشش کریں کہ ہمارے اس قسم کے اسلامی اجتماع میلوں کی شکل اختیار نہ کریں۔احباب کو اسلامی جماعتوں کے مطابق اپنا پروگرام بنانا چاہیے اور اکثر وقت ذکر الہی میں صرف کرنا چاہیے۔جو لوگ اس قسم کے اجتماعوں کی غرض کو پورا نہیں کرتے اور خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لیے اپنے وقت کو کسی پروگرام کے ماتحت خرچ نہیں کرتے اور کہیں ہانکنے اور بازاروں میں ادھر ادھر پھرنے سے اپنے آپ کو روک نہیں سکتے ان کے لیے، ان کے خاندان کے لیے اور دین کے لیے یہ زیادہ برکت والی بات ہوگی کہ وہ یہاں نہ آئیں کیونکہ اُن کا یہاں آنا اور پھر اپنے وقت کو لغو باتوں میں ضائع کر دینا