خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 40

$1951 40 40 خطبات محمود کرنے چاہیں بیشک یہ ابتدائی مسائل ہیں لیکن زمیندار انہی ابتدائی مسائل کے زیادہ محتاج ہوتے ہیں یہ نسبت بڑے دینی مسائل کے۔وہ ختم نبوت اور توحید کی باریکیوں کو نہیں سمجھ سکتے اُن کے لیے صرف اتنا جاننا ہی کافی ہے کہ اللہ ایک ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے رسول ہیں اور ان کا فرض ہے کہ وہ خدا اور اس کے رسول کے احکام کی اطاعت کریں۔اس کے بعد انہیں یہ بتایا جائے کہ بحیثیت ایک انسان ہونے کے اُن پر کیا ذمہ داریاں عائد ہیں یا بحیثیت ایک باپ اور بیٹا ہونے کے ان پر کیا ذمہ داریاں ہیں۔اسی طرح عورتوں کو یہ بتایا جائے کہ بحیثیت ایک بیٹی ہونے کے عورت پر کیا ذمہ داریاں ہیں یا بحیثیت ایک ماں ہونے کے عورت پر کیا ذمہ داریاں ہیں۔پھر انہیں بتایا جائے کہ ہمسائیوں کے کیا حقوق ہیں، دوستوں کے کیا حقوق ہیں، میاں کے بیوی پر کیا حقوق ہیں اور بیوی کے میاں پر کیا حقوق ہیں، رشتہ داروں کے کیا حقوق ہیں، جو لوگ کا روبار میں شریک ہوں اُن کے کیا حقوق ہیں۔یہ باتیں ہیں جو آہستہ آہستہ ان کو سمجھائی جائیں تا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ظلم اور انصاف ، دیانت اور بدیانتی اور محنت اور سستی میں فرق کریں اور اپنے آپ کو قوم کا ایک مفید وجود بناسکیں۔جب یہ چیزیں ان کے دماغ پر روشن ہو جائیں گی تو پھر بڑے بڑے مسئلے سمجھنے بھی ان کے لیے آسان ہو جائیں گے۔بہرحال ایسے دور افتادہ علاقوں میں پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں اور مبلغوں کو چاہیے کہ وہ چھوٹے چھوٹے مسائل دینیہ لوگوں کو بار بار سمجھاتے رہا کریں۔مگر یہ یا درکھا جائے کہ خالی وعظ کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ یہ بھی معلوم کرتے رہنا چاہیے کہ لوگ ان باتوں پر عمل کرتے ہیں یا نہیں۔اور آیا وہ با تیں انہوں نے سمجھ لی ہیں یا ابھی اُن کو اور سمجھانے کی ضرورت ہے۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ خواہ اُن کے سامنے کتنی لمبی تقریر کرو بعد میں دریافت کرنے پر پتا لگتا ہے کہ انہوں نے کچھ بھی نہیں سمجھا۔مثلاً میرا خطبہ اس وقت تمام لوگ سن رہے ہیں لیکن نماز کے بعد اگر لوگوں سے دریافت کیا جائے کہ میں نے کیا خطبہ دیا ہے تو بعض ایسے ہوں گے جو بالکل خاموش ہو جائیں گے اور جب دوبارہ ان سے دریافت کیا جائے گا تو وہ کہیں گے ہمیں یاد نہیں رہا لیکن پاس بیٹھنے والا ساتھی فوراً بول اٹھے گا کہ یہ تو اُس وقت سور ہے تھے تو انہوں نے بیان کیا کرنا ہے۔پس چونکہ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو سمجھنے کا مادہ اپنے اندر کم رکھتے ہیں اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ مسائل کو بار بارد ہرایا جائے۔