خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 36

$1951 36 خطبات محمود وہ دوسروں کو دیکھ کر آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کے دلوں میں دوسروں کو دیکھ کر بھی یہ احساس پیدا نہیں ہوتا کہ وہ ترقی کریں۔اسی طرح ہر شخص معلم اور مربی نہیں بن سکتا۔لیکن فرض کروسو میں سے دس بن سکتے ہوں اور ادھر سندھ میں سو میں سے پانچ شخص سندھی زبان جانتے ہوں تو یہ لازمی بات ہے کہ وہ پانچ بھی ہمارے لیے بیکار ہو جائیں گے کیونکہ ہمیں دس میں سے ایک شخص مل سکتا تھا اور وہ صرف پانچ ہیں۔اس کے معنے یہ ہیں کہ ہمیں نصف آدمی ملا اور نصف چونکہ ہو ہی نہیں سکتا اس لیے ہم اس انتخاب میں صفر تک آجائیں گے۔لیکن اگر تمام لوگ سندھی زبان جانتے ہوں تو ان میں سے دس ہمیں کام کے آدمی مل جائیں گے اور ہماری ضرورت پوری ہو جائے گی۔پس میری پہلی ہدایت تو یہ ہے کہ یہاں کے رہنے والے تمام افراد کو سندھی زبان سیکھنی چاہیے اور سندھ کی تمام جماعتوں کے پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں کو اپنی رپورٹوں کے فارم میں ایک خانہ ایسا بنانا چاہیے جس میں یہ ذکر ہو کہ انہوں نے جماعت کے اندر سندھی زبان سیکھنے کے لیے کیا بیداری پیدا کی اور کتنے افراد ان کی تحریک پر سندھی زبان سیکھ رہے ہیں؟ میں ربوہ واپس جا کر اس بارہ میں متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت دوں گا کہ وہ سندھ کی جماعتوں کی نگرانی کرے اور سیکرٹریان جماعت سے با قاعدہ رپورٹیں منگوائے کہ انہوں نے سندھی زبان سکھلانے کے لیے کیا کوشش کی ہے اور کتنے افراد سندھی سیکھ رہے ہیں؟ ہمارے ملک میں پٹھان آتے ہیں تو وہ اردو بولنے لگ جاتے ہیں، انگریز آتے ہیں تو وہ بھی اردو میں باتیں کرنے لگ جاتے ہیں، جرمن آتے ہیں تو وہ اردو میں گفتگو شروع کر دیتے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ ہم سندھی نہیں بول سکتے ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے دل میں یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ ہم نے سندھی نہیں سیکھنی اور جب ہم یہ فیصلہ کر لیتے ہیں تو پھر ہمیں سندھی نہیں آتی۔پس میں تمام جماعتوں کے پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں کو ہدایت دیتا ہوں کہ وہ اپنی رپورٹ میں آئندہ اس امر کی تصریح کیا کریں کہ ان کی جماعت کے کتنے افراد ہیں؟ کتنے سندھی زبان جانتے ہیں اور کتے نہیں جانتے۔اور جو لوگ نہیں جانتے اُن کو سندھی زبان سکھانے کی کیا کوشش کی جا رہی ہے۔یہ تحریک ایسی ہے جس میں عورتوں اور بچوں کو شامل کرنا چاہیے اور ہر مرد اور ہر عورت اور ہر بچہ کو سندھی زبان آنی چاہیے۔